اڑتا پنچھی

وہ تو اڑتا پنچھی تھا
آزاد ہواوں کا ساتھی تھا

جب رواجوں کی تیز قینچی سے
مخملیں پر تراشے گئے
جب انا کے تنگ پنجرے میں
رات دن گزارے گئے

جب مچلتی امنگوں کی بادِ نسیم
دل کے تار بجاتی تھی
بہت پر پھڑپھڑاتا تھا
جب اندر ہوک سی اٹھتی تھی

وہ تو اڑتا پنچھی تھا
آزاد ہواوں کا ساتھی تھا

جب سرد سلاخوں کے بیچ سے
کھلا آسماں دکھتا تھا
بہت شور مچاتا تھا
جب سانسیں گھٹ سی جاتی تھیں

جب خلوص بھرے ہاتھوں سے
پنجرہ کھولا جاتا تھا
منافقت چھلکنے لگتی تھی
جب دانا پانی بھر جاتا تھا

وہ تو اڑتا پنچھی تھا
آزاد ہواوں کا ساتھی تھا

آج پھر کچھ ہاتھوں نے
امید کا در کھولا تھا
ہاتھ جم سے گئے تھے
جب ساکت وجود پایا تھا

بکھرے پروں کے درمیاں
وہ آنکھیں کھولے لیٹا تھا
بیتابی کہیں نہ دکھی تھی
شاید ہوائیں ملنے آئیں تھیں

وہ تو اڑتا پنچھی تھا
آزاد ہواوں کا ساتھی تھا

(فقیرہ)

Lying On The Bed Of Grass

 Lying on the bed of grass
Hours, we meant to pass

 Sun was about to rise
unveiling night that lies
Night that haunts the child
child that resided in my mind

 Breeze was brushing dull face
Making it smile with grace
Whispered few tales of folks
Few sounded sob, few jokes

 Water was loud and bold
jumping like a kid who drolled
Hugging with breeze it danced
sprayed our eyes which glanced

 On closing those eyes I realized
Your presence is what I idealized
Hours flew as a blink of eye
Time came to say good-bye

 Poisoning air with their breaths
Humans woke up from their deaths
Making me woke up from her nest
SILENCE did not listen and left

///A.Z///

سفید کالے پتلے

ہمارے ارد گرد بہت سے سفید کالے پتلے منڈلاتے ہیں جن میں سے بعض کے ساتھ آئے دن اختلافِ رائے رہتا ہے۔ یہ اختلاف ایسے جھگڑوں کو جنم دیتا ہے جو ان پتلوں سے دلی لگاو کو گھٹا دیتا ہے اور بدلے کڑواہٹ چھوڑ جاتا ہے۔ پتلے اپنی اہمیت کھونے لگتے ہیں، اور ہم انکی خوشی اور دکھ کی پرواہ کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔ یہ پتلے کوئی بھی ہو سکتے ہیں: دوست احباب، رشتے دار، پڑوسی، دفتری ملازمین، والدین، بہن بھائی، اور راہ گیر وغیرہ۔

ان کڑوے لمحوں کے بیچ پھر ایک وقت آتا ہے، ملاقات کا وقت۔ جب اللہ آپ کے سامنے آ بیٹھتا ہے اپنی پوٹلی لیئے۔ اسکی پیار بھری میٹھی مسکراہٹ سے آپ اندازہ لگا لیتے ہیں کہ جتنا مانگیں گے جو مانگیں گے مل جائیگا۔ تب آپ کے دماغ میں خود کی بنائی ہوئی مادی خواہشات کی لسٹ ابھرتی ہے، انگوٹھے کو چھوٹی انگلی پر دبائے پہلی خواہش بولنے ہی لگتے ہیں تو زبان رک سی جاتی ہے اور نظر کے سامنے سفید کالے پتلے منڈلانے لگتے ہیں۔

ایسے میں زبان صرف پتلوں کے لیئے رنگ مانگتی ہے، پیار، احساس، سکون، اور خیر کے رنگ، اور اللہ پوٹلی میں سے کسی جادو گر کی طرح مانگے گئے رنگ نکال کر ان پتلوں میں بھرنے لگتا ہے۔ پھر وہ پتلے جب رنگوں سے نکھر کر سامنے آتے ہیں تو پتلے نہیں جیتے جاگتے وجود محسوس ہوتے ہیں، جنکی خیر آپکو اپنی خواہشات سے زیادہ اہم لگتی ہے۔ اس وقت آپکو انکی اپنی زندگی میں موجودگی اور اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے اور انکے لیئے کڑواہٹ قدرے کم محسوس ہوتی ہے۔

(فقیرہ)