باپ

باپ کی اہمیت اپنے بچوں کی زندگی میں ایک گرم استری کی مانند ہوتی ہے۔۔۔ جسکی حرارت اور تپش جب تک کردار کی شکنوں کو نہ پہنچے۔۔۔ کردار نہیں بنا کرتے۔۔۔

Advertisements

سفید کالے پتلے

ہمارے ارد گرد بہت سے سفید کالے پتلے منڈلاتے ہیں جن میں سے بعض کے ساتھ آئے دن اختلافِ رائے رہتا ہے۔ یہ اختلاف ایسے جھگڑوں کو جنم دیتا ہے جو ان پتلوں سے دلی لگاو کو گھٹا دیتا ہے اور بدلے کڑواہٹ چھوڑ جاتا ہے۔ پتلے اپنی اہمیت کھونے لگتے ہیں، اور ہم انکی خوشی اور دکھ کی پرواہ کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔ یہ پتلے کوئی بھی ہو سکتے ہیں: دوست احباب، رشتے دار، پڑوسی، دفتری ملازمین، والدین، بہن بھائی، اور راہ گیر وغیرہ۔

ان کڑوے لمحوں کے بیچ پھر ایک وقت آتا ہے، ملاقات کا وقت۔ جب اللہ آپ کے سامنے آ بیٹھتا ہے اپنی پوٹلی لیئے۔ اسکی پیار بھری میٹھی مسکراہٹ سے آپ اندازہ لگا لیتے ہیں کہ جتنا مانگیں گے جو مانگیں گے مل جائیگا۔ تب آپ کے دماغ میں خود کی بنائی ہوئی مادی خواہشات کی لسٹ ابھرتی ہے، انگوٹھے کو چھوٹی انگلی پر دبائے پہلی خواہش بولنے ہی لگتے ہیں تو زبان رک سی جاتی ہے اور نظر کے سامنے سفید کالے پتلے منڈلانے لگتے ہیں۔

ایسے میں زبان صرف پتلوں کے لیئے رنگ مانگتی ہے، پیار، احساس، سکون، اور خیر کے رنگ، اور اللہ پوٹلی میں سے کسی جادو گر کی طرح مانگے گئے رنگ نکال کر ان پتلوں میں بھرنے لگتا ہے۔ پھر وہ پتلے جب رنگوں سے نکھر کر سامنے آتے ہیں تو پتلے نہیں جیتے جاگتے وجود محسوس ہوتے ہیں، جنکی خیر آپکو اپنی خواہشات سے زیادہ اہم لگتی ہے۔ اس وقت آپکو انکی اپنی زندگی میں موجودگی اور اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے اور انکے لیئے کڑواہٹ قدرے کم محسوس ہوتی ہے۔

(فقیرہ)

بارش

سردیوں کی آمد تھی اور بارش تھی کہ آنے کا نام نہ لیتی تھی۔ خشک خنکی نے کلینکس پر رونق کر رکھے تھے۔ کہیں گلا خراب تو کہیں بخار، کہیں کھانسی تو کہیں بہتی ناک۔ ایسے میں ادویات بھی بے اثر لگتی تھیں، کھاتے جاو کھاتے جاو، معدے خراب کر لو لیکن اصل بیماری وہیں کی وہیں۔ بارش نے آنا تھا تو ہی ان بیماریوں نے پیچھا چھوڑنا تھا۔
اس ساری صورتِ حال کو دیکھتے ہوئے نمازیوں نے جمعہ کی نماز کے بعد ابر رحمت کیلیئے خصوصی دعائیں کیں، جنکی نمازیں رہ گئیں انہوں نے بارش کی نییت کر کے اللہ کے پانچ نام اپنے اپنے موبائلز میں محفوظ تمام کانٹیکٹس کو ارسال کر دیئے، جبکہ نوجوان نسل نے سوشل میڈیا پہ آیاتِ کریمہ کے ٹیگز کیئے۔ بلآخر شام کو گہرے سرمئی بادلوں نے علاقے کا چکر لگایا، اور ہلکی سی گرج کے ساتھ ٹپ ٹپ برسنا شروع کر دیا۔ لیکن یہ کیا؟ ہوا آئی اور اپنے ساتھ بادل لے اڑی۔ شاید وہ کہیں اور کے بادل تھے جنہیں ہوا راستہ دکھانے آئی تھی، لیکن یہاں کی گرد آلود پیاسی زمین کی پیاس چند قطروں سے بھڑکا کر چلی گئی اور رخساروں میں پڑے گڈوں کی طرح کر گئی۔ بیماریاں بھی وہیں تھیں اور ادویات بھی۔۔۔
ہم غموں سے ڈرتے ہیں کہ وہ دلوں میں دکھ اور آنکھیں نم چھوڑ جاتے ہیں۔ لیکن اسکے بعد کی کیفیت کی کوئی بات نہیں کرتا، اس سکون کی، اس ہلکے پن کی جو دل کھول کر آنسو بہا دینے کے بعد پیدا ہوتی ہے۔ وہ آنسو جو کسی شفیق کاندھے پر بہائے جائیں ، بند کمرے کی تنہائی میں، اللہ کے حضور یا کسی بھی اور طریقعے سے آنکھ سے نکال دیئے جائیں۔
یہ آنسو بارش کا سا کام دیتے ہیں جو اندر کے غبار کو یا تو وقتی طور پر دبا دیتے ہیں یا اپنے ساتھ بہا دیتے ہیں۔ جیسے بارش کی تاخیر باہر کی فضا کو ابر آلود کیئے دیتی ہے اور مختلف قسم کی جسمانی بیماریوں کا باعث بنتی ہے، بلکل اسی طرح آنسووں کی تاخیر ہمارے اندر کے غبار کو بڑھنے دیتی ہے اور مختلف قسم کی نفسیاتی بیماریوں کا باعث بنتی ہیں۔ رویا اگر گھٹ کر جائے تو وقتی طور پر تو اندر کا گرداب بیٹھ جاتا ہے لیکن کبھی نا کبھی سر ضرور اٹھاتا ہے۔
اسی لیئے کبھی آپ اپنے آپکو بے بس پائیں تو اس بیبسی کو آنکھوں کے راستے نکال دیں، کیونکہ گھٹا ہوا انسان یا تو اندر بیماریاں پالتا ہے یاارادی/ غیر ارادی طور پر معاشرتی بیماریوں کا باعث بنتا ہے۔
(فقیرہ)

پتنگ باز

image

ہماری زندگی ایک پتنگ کی مانند ہے، جسکو کھلی فضا میں چھوڑ کر ڈور سے باندھ دیا گیا ھے۔ اس ڈور کا دوسرا سرا پتنگ باز کے ہاتھ میں ہے، جو ہواؤں کے رخ سے بخوبی واقف ہے۔
کبھی جو ہم پتنگ بازی پر غور کریں تو پتہ چلتا ہے کہ پتنگ باز کا ہاتھ کسی اور سمت میں حرکت کرتا ھے اور پتنگ کسی اور سمت میں۔ بعض اوقات ڈھیل دے کر پتنگ کو ڈولنے دیا جاتا ہےاور وقت آنے پر ڈور کھینچ دی جاتی ہے۔ کٹی پتنگ یوں تو موج کرتی نظر آتی ہے لیکن جلد ہی وہ کسی درخت کی شاخوں میں جا اڑتی ہے اور ہوا کے تیز جھونکے اسے انہی شاخوں میں مسخ کر دیتے ہیں۔
یہی حال ہمارا ہے۔ ہمیں اکثر لگتا ہے کہ ہماری زندگی ایسی ڈگر پر جا رہی ہے جسکا انجام یا تو بھیانک ہے یا ہم خالی ہاتھ رہ جائیں گے. لیکن در حقیقت وہ ایک خوبصورت منزل کی طرف مڑنے والا ایک موڑ ہوتا ہے . کبھی کبھی پتنگ باز ہمیں ہماری مرضی پر چھوڈ دیتا ہے اور ہم ہواؤں کی
مستی میں مگن یہ بات بھول جاتے ہیں کہ ہماری ڈور کسی بھی وقت کھنچ جاۓگی. اور جب وہ ڈور کھینچتی ہے تو ہمیں لگتا ہے کہ ہم کسی طوفان کی زد میں ہیں ، درحقیقت ہمیں آنے والے طوفان سے بچایا جا رہا ہوتا ہے جسے صرف پتنگ باز ہی دیکھ سکتا ہے . زندگی میں ہم بہت سے ایسے لوگوں سے متاثر نظر آتے ہیں جو اپنی مرضی کی زندگی گزار رہے ہوتےہیں اور اس جینے میں اپنی حدود سے بےخبر ہوجاتے ہیں . ایسے لوگ اس کٹی پتنگ کی مانند  ہیں جنکو عنقریب احتساب کی شاخوں میں جکڑے جانا ہے.
 اگر آپکو لگتا ہے کہ آپکی زندگی آپکی مرضی کی ڈگر پر نہیں چل رہی تو یقین جانئے وہ ایسی ڈگر پر ہے جہاں آپ محفوظ ہیں ان دیکھے خطرات سے انہونے حادثات سے …

فقیرہ