ریسائیکلنگ آف ویسٹ مٹیرئل

“جانے کیا کیا گند بلاء سنبھال کر رکھتی ہے یہ لڑکی” بواء نے ریا کی الماری میں، دھلے کپڑے رکھتے ہوئے، قدرے جھلا کر کہا۔ یہ جملہ ہم گھر والوں کے لیئے نیا نہیں تھا۔ ہر روز صبح شام، اٹھتے بیٹھتے، ریا کو ردی سنبھال کر رکھنے پر، بواء سے ایسے ہی ڈانٹ پڑتی تھی۔ وہ بھی چپ چاپ سن لیتی تھی. آخر کیوں نہ سنتی، ماں کی طرح پالا تھا بواء نے ہمیں۔

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

ہمارا گھرانہ چار افراد پر مشتمل ہے: پتا جی، بواء، ریا اور میں…. پریا۔ پتا جی ممبئی کے بہت بڑے نہ سہی مگر، اوسط درجے کے کامیاب کاروباری آدمی ہیں. میں انکی بڑی بیٹی پریا۔۔۔ میڈیکل کی تعلیم کے بعد ہاؤس جاب کر رہی ہوں؛ اور ریا۔۔۔ شہر کے مشہور کالج سے آرٹس میں ماسٹرز کر رہی ہے. ماتا جی ریا کے پیدائش کے وقت ہی انتقال کر گئیں تھیں۔ بواء ہماری بہت پرانی ملازمہ ہیں جنہوں نے ہم دونوں بہنوں کو، ماں بن کر پالا۔

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

پتا جی کاروباری سوچ رکھنے والے انسان، بڑی کوشش کے باوجود ریا کو میڈیکل کی فیلڈ اپنانے کیلئے آمادہ نہ کر سکے۔ وہ اگلے کچھ عرصہ میں ایک جدید سرجیکل ہسپتال بنانے کا سوچ رہے ہیں جسکے لیئے وہ ہم دونوں بہنوں کو، ڈاکٹر بنانا چاہتے تھے۔ میں چونکہ شروع سے سائنس میں دلچسپی رکھتی تھی، لہٰذا پتا جی کی خواہش کا احترام کرنا مجھے بالکل مشکل نہ لگا۔ لیکن ریا کچھ الگ ہی قسم کی چیز تھی۔ فائدہ نقصان کہاں سوچتی تھی۔ ہمیشہ اپنی مرضی کرتی تھی۔ اسکا رجحان ہمیشہ سے ہی، آرٹس کی طرف تھا، اور اس نے آرٹس میں ہی تعلیم حاصل کرنے کو ترجیح دی۔ پتا جی کی بھی لاڈلی تھی اسلئے زور زبردستی نہیں کی گئی۔

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

آج بھی بواء کو ریا کی الماری سے گتے کے کارٹن کی کترنیں، ختم شدہ ٹشو رولز، کچھ کنکر اور چھوٹی چھوٹی لکڑی کی شاخیں ملیں۔ الماری کو الماری کم اور کباڑ خانہ زیادہ پا کر انہوں نے حسب عادت ریا کے شوق کو بہت کوسا۔ اسے ناکارہ اشیاء کو کام میں لانے کا شوق اس وقت سے ہو گیا تھا جس دن اسکی آرٹس ٹیچر نے، اپنی کلاس کے بچوں کو “Recycling of waste material” پر لیکچر دیکر، ہوم ورک میں گھر کی اشیاء کی مدد سے کوئی آرٹ بنانے کا کہا تھا۔ اسوقت ریا کا ماچس کی ڈبیوں سے بنا جیولری باکس بہت سراہا گیا تھا۔ بس وہ دن تھا کہ اس کے بعد آئس کریم سٹکس، خالی جام کی شیشیاں، گتے کے ڈبوں کی پیکنگز اور ان جیسی بے شمار اشیاء، ردی میں جانے کی بجائے، ریا کی الماری میں جانے لگیں۔ اور وہ ان معمولی چیزوں سے وال ہینگنگز اور کارڈز بنانے لگی۔ ـ

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

آج وہ کالج سے واپسی پر میرے ہاسپٹل آگئی جہاں میں ہاؤس جاب کر رہی ہوں. آج ڈرائیور چھٹی پر تھا اور ہم دونوں نے گھر اکھٹے جانا تھا۔ ریا، کانوں میں ھینڈز فری لگائے ایک کونے میں بیٹھی، ایمرجنسی میں آتے جاتے مریضوں کو تکتی رہی۔ شام کو جب واپسی ہوئی تو وہ چپ چپ تھی۔ میں نے دن بھر کی تھکاوٹ سمجھ کر کچھ نہ پوچھا۔ لیکن جب رات کا کھانہ کھائے بنا وہ سونے چلی گئی تو مجھے کچھ تشویش ہوئی۔ میں کھانے سے فارغ ہو کر کمرے میں آئی تو اس کو جاگتے ہوئے پایا۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

“تمہیں دن بھر لوگوں کو تکلیف میں دیکھ کر کچھ نہیں ہوتا”؟ میرے بستر پر لیٹنے کی دیر تھی کہ ریا نے جھٹ سوال کر ڈالا۔ “لوگوں کی تکلیف میں میری روزی روٹی لکھی ہے. مجھے بھلا مریضوں کی بیماری کیوں چبھنے لگی”؟ اتنے سفاک جواب کی ریا کو مجھ سے بلکل امید نہیں تھی اسلئے اس نے کچھ دیر مجھے دیکھا اور پھر منہ پھیر کر لیٹ گئی۔ میرے پیشے نے مجھے شاید بے حس بنا دیا تھا، لیکن ریا بچپن سے بہت حساس تھی۔ فلموں اور ڈراموں میں بھی کسی کو تکلیف میں نہیں دیکھ سکتی تھی۔ میں ابھی لیٹنے ہی لگی تھی کہ کمرے کے دروازے پر دستک ہوئی اور پتا جی اندر آ گئے۔ وہ بھی ریا کے کھانے کی ٹیبل پر غیر موجودگی کو محسوس کر چکے تھے۔ آتے ہی اس کے بستر پر بیٹھے اور بہت پیار سے ریا کے چہرے کو اپنی طرف کر کے خیریت پوچھی۔ بہت لاڈلی جو ہے انکی۔ ریا کی آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے اسکے سر میں درد کا منہ بولتا ثبوت تھے۔ “بس آج تھکاوٹ کچھ زیادہ ہوگئی اسلئے سر درد کر رہا ہے اور من نہیں کیا کچھ کھانے کو” ریا نے پتا جی کو تسلی دی تو انہوں نے برابر دراز سے سر درد کی گولی نکالی اور پانی کے گلاس کے ساتھ چپ چاپ رکھ دی. یہ انکا سٹائل تھا. شاید سب باپ ایسے ہی ہوتے ہیں: دلوں میں خاموش محبت لیئے۔ یہ تو عورتیں ہی ہوتی ہیں جو اپنی محبت کا واویلہ مچاتی ہیں اور جتاتی ہیں، جیسے کہ بواء۔ پتا جی نے پہلے اسکا اور پھر میرا ماتھا چوما اور گڈ نائیٹ کہ کے چلے گئے۔

اب باری تھی بواء کی۔۔۔ رسوئی سے کام ختم کر کے بڑی سی کھانے کی ٹرے لئے وہ اب ریا کے بیڈ پر تھیں۔

“اٹھو ریا رانی۔۔۔ ایسے نہ کو کرتے نہ جی۔۔۔ رات کو بھوکا پیٹ لیئے نہ کو سوتے ۔۔۔ اٹھو رانی۔۔۔ پالک پنیر بنائی تمھارے لیئے۔۔۔ سپیسل

مختصر یہ کہ بواء نے زبردستی ریا کو دو چار نوالے اپنے ہاتھوں سے کھلائے اور دودھ کے ساتھ دوا کھلا کر سونے چلی گئیں۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

وقت کے پرندے کو پر لگے اور اس نے اڑنا شروع کر دیا۔ میں ایک سرجن کے طور پر، پتا جی کے بنائے ہاسپٹل میں، اپنی ذمے داریاں نبھانے لگی۔ جبکہ ریا ایک انٹیریئر ڈیزائنر بن گئی۔ زندگی معمول پر گامزن تھی کہ اچانک ریا کے برین ٹیومر کی خبر نے ہم سب کو ہلا کر رکھ دیا۔ ٹیسٹ کرانے پر معلوم ہوا کہ ٹیومر کافی پھیل چکا ہے اور ناقابل علاج ہے۔ پتا جی کی تو راتوں کی نیندیں اڑ گئیں۔ انہوں نے نا صرف اندرون ملک بلکہ بیرون ملک بھی، ریا کی رپورٹس ڈاکٹرز کو دکھائیں، لیکن سب بے سود۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

فون بند کرتے ہی میں نے گھر کا رخ کیا جہاں پتا جی اور ریا ایک دوسرے کے گلے لگے رو رہے تھے، جبکہ بواء رسوئی میں آنکھیں سجائے ریا کی من پسند چاومن بنانے میں مصروف تھیں۔ انکی کوشش یہی ہوتی تھی کہ ریا کسی طرح کچھ کھا لے اور انکو سکون آئے، کیونکہ آج کل اسنے بلکل کھانا پینا چھوڑا ہوا تھا۔ مجھے پتا جی نے آج گھر جلدی بلوا لیا تھا۔ ریا کی طبیعت کافی خراب تھی۔ اس نے اپنے آخری دن ہاسپٹل کی بجائے گھر میں ہم سب کے ساتھ گزارنے کو ترجیح دی۔ دن بھر باتیں کرتے، ریا کو زبردستی کھانہ کھلاتے اور ایک دوسرے سے آنسو چھپاتے گزر گیا۔ رات سب نے جاگ کر گزاری کیونکہ ریا تکلیف میں تھی اور ہم اسکی تکلیف کی تکلیف میں۔ وہ رات اسکی زندگی کی کتاب کا آخری ورق ثابت ہوئی۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

گھر میں آخری رسومات مکمل کرنے کے بعد ریا کی باڈی کو شمشان گھاٹ لیجانے کیلئے ایمبولینس میں رکھ دیا گیا۔ لیکن یہ کیا؟ گاڑی کو تو دائیں مڑنا چاہیئے تھا اور وہ سیدھا ہی چلی جا رہی تھی، اپنے ہاسپٹل کی جانب۔ پہلے تو مجھے اور بواء کو لگا کہ غم کے زیر اثر پتا جی اپنے حواس میں نہیں ہیں لیکن جب انکو ڈرائیور سے باتیں کرتے پایا تو تشویش ہوئی۔ تشویش کے مارے مجھ سے رہا نہ گیا اور میں نے آہستگی سے ہاتھ بڑھا کر پتا جی کا شانہ دبایا۔ انہوں نے گردن گھما کے ایک نظر مجھے دیکھا اور بنا الفاظ، نم آنکھوں سے مجھے کچھ سمجھانے کی کوشش کی۔ میں باوجود کوشش ان کی بات نہ سمجھ سکی اور بواء کے ساتھ خاموشی سے گاڑی کے منزل تک پہنچنے کا انتظار کرنے لگی۔ میرا اندازہ ٹھیک ہی نکلا۔ ایمبولینس ہمارے ہاسپٹل کے مرکزی دروازے کے سامنے جا رکی. ریا کی باڈی کو آپریشن تھیٹر لیجایا گیا۔ میں اور بواء یہ سمجھنے سے قاصر تھے کہ ریا کا ہاسپٹل میں اب کیا کام۔ ہماری حیرانی دیکھ کر پتا جی نے ہمیں تھیٹر کے باہر بنچ پر بیٹھا دیا۔ خود بھی برابر آ کر بیٹھ گئے۔ میرا ہاتھ مستقل انکے ہاتھ میں تھا۔ اور وہ اپنے دونوں ہاتھوں سے میرے ٹھنڈے پڑتے ہاتھ سہلا کر پیار اور ہمدردی کی گرمی دیتے رہے۔ بواء بھی سفید ساڑھی کا پلو منہ پر رکھے روتی جا رہی تھیں، آنسوءں کا اک سیلاب تھا انکی آنکھوں میں جو ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا۔ میں نے سوالیہ نظروں سے پتا جی کی طرف دیکھا کیونکہ اس وقت مجھے ہمدردی سے زیادہ اس جواب کی تلاش تھی جو ابھی کچھ دیر پہلے تھیٹر لیجایا گیا تھا۔ ساری زندگی میں نے بیجان وجود اس تھیٹر سے نکلتے دیکھے تھے، لیکن آج پہلی بار ایک مردے کو اندر جاتے دیکھ رہی تھی۔ پھر پتا جی نے نم آنکھوں کے ساتھ نرمی سے بولنا شروع کیا اور میں اور بواء تو بس انکی طرف دیکھتے ہی رہ گئے۔ وہ ریا کے بارے میں بولتے جا رہے تھے اور مجھے ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ میں اس لڑکی کو جانتی تک نہیں۔ جبکہ بواء اب دونوں ہاتھوں سے اپنا دل تھامے، ہونٹ دانتوں میں دبائے، آنکھیں بھینچے اپنا بین ظبط کیئے ہوئے تھیں۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

“پتا جی، جب لوگ مر جاتے ہیں تو انکی باڈی کا کیا کرتے ہیں”؟

“بیٹا۔۔۔ ہم اسکو خوشبو لگا کر نہلاتے ہیں اور اسکو جلا کر اسکی مٹی گنگا میں بہا دیتے ہیں”

“ان انکل کا دیہانت کیسے ہوا تھا”؟

“انکے پھیپھڑے بالکل خراب ہو چکے تھے۔ بہت عرصہ سے آکسیجن کے سہارے زندہ تھے. بس…..اسکے بنا انکا گزارہ نہیں تھا.”

ریا کو میری بات سمجھ آئی یا نہیں. لیکن وہ تھوڑی دیر کو چپ ہو گئی۔ پھر پوچھنے لگی:

“ابا! کچھ دن پہلے میری سائیکل خراب ہوگئی تھی، وہ کیسے ٹھیک ہوئی”؟

میں ریا کے اس بے تکے سوال پر حیران ہوا لیکن جواب دیئے بنا تو شما ملنے والی نہیں تھی۔

“سائیکل کے بریک شو خراب تھے، نئے ڈالے اور سائیکل پھر سے ٹھیک ہوگئی”۔

“بریک شو کہاں سے ملتے ہیں”؟

میں اس سوال جواب سے زرا جھلا گیا۔

“مکینک کے پاس سے بیٹا.”

“تو انکل کو بھی مکینک کے پاس لے جاتے، وہ بھی ٹھیک ہو جاتے.”

موقع نہیں تھا لیکن مجھے بہت ہنسی آئی جو کہ ضبط کرنی پڑی۔

پتا جی مجھے بتاتے بتاتے ایک بار پھر مسکرا دیئے۔

“انسانوں کو ٹھیک کرنے کیلئے ڈاکٹر ہوتے ہیں، مکینک نہیں، میرے بچے.”

“ڈاکٹرز نے انکل کو کیوں ٹھیک نہیں کیا”؟

“انکے پھیپھڑے مکمل خراب ہوچکے تھے، اسلیئے.”

“تو نئے لگا دیتے نا.”

میں منہ تکتا رہ گیا ریا کا۔

“ڈاکٹرز کے پاس پھیپھڑے نہیں تھے.”

“this is so irresponsible papa”

(کتنی غیر زمہ دارانہ بات ہے)

“شش۔۔۔”

پریا۔۔۔ جانتی ہو؟ وہ چھ سال کی تھی جب اس نے مجھ سے میرے عزیز کی وفات پر یہ سوالات کیئے تھے، اور میں نے اس وقت اسے جھڑک دیا تھا۔” پتا جی آنسوں کے بیچ مسکرائے۔

_________________________

اندر آپریشن تھیٹر میں ریا کے اعضاء اسکی آخری خواہش کے احترام میں عطیئے کی غرض سے نکالے جا رہے تھے، جبکہ باہر پتا جی کی حالت اس دیوالیہ نکلے آدمی کی سی تھی جس کے زندگی بھر کے اثاثے اسکی نظروں کے سامنے نیلام کیئے جا رہے ہوں۔

(عروج ذکاء)

Advertisements

اندھیرے کا سفر

images

کمرے میں آتے ہی جوتے دیوار کے ساتھ لگی کرسی کے نیچے اور موزے، ذرا فاصلے پر قالین پر پھینک دیئے۔ امی پانی کا گلاس لیکر آیہی تھیں کہ صاف ستھرے جھاڑو لگے قالین پر،مٹی میں اٹے جوتے دیکھ کر آگ بگولا ہو گئیں۔ انکی ڈانٹ میری لا پرواہ طبیعت سے شروع ہوئی اور میری مستقبل میں آنے والی بیوی سے گھر کے سارے کام کروانے پر، ختم ہوئی۔

“!امی”

میں نے امی کو کمرے سے غصے سے جاتے دیکھا تو آواز لگائی۔ انہوں نےتیوری چڑھاتے مڑ کے مجھے دیکھا اور بولیں

“کیا ہے؟”

“ایسے تیوریاں چڑھانے سے جھریاں جلدی آ جائیں گی، اور ابو کی نظریں یہاں وہاں بھٹکنے لگیں گی”

 میں نے بھی امی کا غصہ ٹھنڈا کرنے کو بات کا رخ بدلا اور خالی گلاس انکے ہاتھ میں تھما دیا۔ ایک شرمیلی مسکراہٹ انکے ہونٹوں پرنمودار ہوئی، میرے کاندھے پر ایک تھپڑ رسید کیا اور “چل ہٹ” کیہ کر چلی گئیں۔

ہمارا گھرانہ کل چار افراد پر مشتمل ہے۔ میں، ابو، امی، اور ایک شادی شدہ بہن، جو پردیس میں خوش و خرم زندگی بسر کر رہی ہے۔ امی ایک روائتی گھریلو خاتون ہیں جنکو بکھرے گھر سے چڑ ہے۔ ابو ایک سرکاری ملازم ہیں اور میں، پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ عمرانیات کے آخری سال کا طالب علم ہوں۔

یہ کہانی میری نہیں، بلکہ اس ڈاکومینٹری کا حصہ ہے، جو کہ فائنل پراجیکٹ کے طور پر مجھے اس مہینے جمع کرانی ہے۔

جو موضوع میرے حصے آیا اسے پڑھ کر پہلے تو میں کچھ دیر کیلیئے گھوم سا گیا لیکن اسکی نوعیت جان کر میری دلچسپی بڑھ گئی اور اس میں مجھے ایک چیلنج چھپا نظر آیا۔ موضوع تھا

“جسم فروشی کے فروغ میں معاشرے کا کردار”

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

موضوع ملتے ہی پہلا مسئلہ جو میرے ذہن میں آیا وہ کسی پیشہ ور عورت کی تلاش تھی اور اس تک با آسانی رسائی۔ اب ایسی خواتین  کسی راہ چلتے جوان لڑکے کو انٹرویو تو دینے سے رہیں، چنانچہ مخصوص علاقے میں جانا ضروری تھا

معاملے کی نوعیت کچھ ایسی تھی کے میں نے امی ابو کو بتانا بحرحال مناسب نہ سمجھا۔

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

اگلے دن چھٹی تھی. میں آرام سے اٹھا اور شام کی منصوبہ بندی کرنے لگا۔ مغرب کی نماز پڑھی، ضروری اشیاء اکھٹی کیں اور امی کو دوست کے گھر جانے کا کیہ کر نکل پڑا۔

علاقے میں پہنچنے کی دیر تھی کہ ٹمٹماتی پیلے بلبوں کی روشنیوں نے میری نظروں کا خیر مقدم کیا۔ تنگ سی گلی تھی جسکے دونوں حاشیوں پرتعفن پھیلاتی نالیاںکھلی تھیں. گلی کے دونوں اطراف  تین تین منزلہ پرانی طرز کے بنے ہوئے گھر تھے، جنکی دیواروں سے بوسیدہ لکڑی کی کھڑکیاں اور دروازے جھانک رہے تھے۔ بیشتر کھڑکیوں پہ چکیں لٹک رہی تھیں۔ کچھ چکوں کے پیچھے چھپے خاموش اجنبی وجودکھڑے تھے کہ جن کے چہرے قسمت کی دھول سے اٹے پڑے تھے اور ہونٹوں پر ارمانوں کے خون کی لالی تھی۔ کچھ گھروں سے طبلے اور گھنگروں کی آوازیں اٹھ رہیں تھیں اور چمکدار روشنیاں رنگین شیشوں سے چھن کر عقبی دیواروں پر بے ڈھنگی رنگولیاں بنا رہی تھیں۔ نیچے کریانے، پھول، اور پان سگرٹ کے کچھ کھوکے تھے۔

میری تجسس بھری نگاہیں ادھر ادھر کا جائزہ لینے سے فارغ ہوئیں تو سگرٹ کے دھویں سے لال ہوتی دو آنکھوں کو گھورتا پایا۔  ایک دراز قد، تیل لگے لمبے بالوں والا وجود سامنے کھڑا تھا۔ اس نے پان کی پیک ایک طرف تھوکتے ہوئے پوچھا

“پہلی بار آئے ہو؟”

“جی!”

میں نے مختصر جواب دینے میں ہی اپنی بھلائی سمجھی۔

وہ پیلے ریشمی کرتے میں ملبوس تھا. ایک کان میں سستی سی پیتل کی بالی لٹک رہی تھی اور پیروں میں گرد آلود کھسہ تھا۔ کرتے میں سے اسکی توند کچھ زیادہ ہی نمایاں تھی۔ آدمی نا ہوتا تو میں یقیناً اسے حاملہ سمجھتا۔ یہ سوچ آتے ہی میرے لبوں پر کچھ دیر کو مسکراہٹ آئی جو اسکی انگارے اگلتی آنکھوں کو دیکھ کر فورا غائب ہو گئی۔

“تو مجھے دیکھنے کے لیئے آیا ہے یا کسی آئٹم کی تلاش ہے؟”

پان کے کتھے سے رنگے لبوں نے سوال اگلا۔

میرے دماغ میں مقیم کیڑے نے فوراً بیوقوفی کی لگام کھینچی اور میں اپنا اصل مقصد چھپا گیا۔ کیونکہ اس طرح میرا کام نکلنا مشکل تھا۔

“نہیں نہیں، بس کوئی اچھی سی لڑکی۔۔۔”

میں بات ادھوری چھوڑ کر کھسیانی ہنسی ہنسا۔

“اچھا اچھا۔۔۔ حلیئے سے تو اشٹوڈنٹ لگتے ہو. پیسے ویسے بھی ہیں کہ نہیں؟”

اسنے میری طرف طنزیہ انداز میں دیکھ کر اور ابرو اچکاتے ہوئے سوال کیا۔

میرا تجسس بوریا بستر باندہ کر اسی وقت رفو چکر ہوگیا اور میں کڑوی نظر اور زبان برداشت کرنے کے علاوہ کچھ نہ کر سکا۔

“جی پیسے ہیں”

یہ سنتے ہی وہ مجھے پچھلی دکان سے منسلک تنگ سی اندھیری گلی میں لے گیا۔ گلی کے اندھیرے دروازے پر ہی میں انجانے خوف سے رک گیا.کچھ دیر بعد آنکھوں کی پتلیاں اندھیرے سے واقف ہوئیں تو پتا لگا وہ گلی نہیں بلکہ سیڑھیاں تھیں۔ اتنے میں وہ آدمی کافی اوپر چڑھ چکا تھا. مجھے نیچے ہی کھڑے دیکھا تو آواز لگائی:

” یہیں کھڑے رہو گے یا اوپر بھی آو گے؟”

میں نے جلتو جلالتو پڑھا، گہری سانس لی اور اوپرچڑھنا شروع کردیا۔ سیڑھیاں ایک لمبے برآمدے میں ختم ہوئیں، جہاں قطار میں بہت سارے کمرے تھے۔ وہ آخری کمرے کے سامنے رکا اور دروازہ کھٹکھٹایا، کچھ دیر بعد دروازے کا ایک پٹ کھلا اور ایک میک اپ زدہ وجود نے شکل دکھائی۔

“کشٹمر لایا ہوں”

وہ آدمی یہ کیہ کر واپس سیڑھیوں کی طرف مڑ گیا۔ میں اس خاتون کے ساتھ کمرے میں چلا گیا۔ عجیب سی کیفیت ہورہی تھی میری۔

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

چھوٹا سا کمرہ تھا. دائیں طرف دیوار پر قد آدم شیشہ ٹنگا تھا جسکے برابردو آہنی صندوق اوپر تلے پڑے تھے. سامنے ایک پلنگ تھا جس پر پھولدار چادر بچھی تھی. پلنگ کے ساتھ ایک چھوٹی سی کھڑکی تھی، جس کی منڈیر پر ایک رسی بندھی ٹوکری پڑی تھ..غالباً نیچے دکانوں سے سودا سلف وغیرہ منگوانے کیلئے رکھی گئی تھی۔  بائیں دیوار کے ساتھ دو میلے کچیلے صوفے رکھے تھے۔

“کمرہ ہی دیکھنا تھا تو اپنے گھر کا دیکھ لیتے، یہاں کیا لینے آئے ہو؟”

کمرے میں گشت کرتی میری نگاہیں اسکی کاجل بھری آنکھوں سے ٹکرائیں۔

“سوری وہ۔۔۔”

میرا جملہ پورا ہونے کا انتظار کیئے بنا “بیٹھو” کیہ کر اس نے پلنگ کی طرف اشارہ کیا

“لگتا ہے پہلی بار آئے ہو”

میں نے صوفے پر بیٹھتے ہوئے جواب دینے کو منہ کھولا ہی تھا کہ اسنے اپنا جملہ مکمل کرنا ضروری سمجھا: “ورنہ یہاں کوئی کسی کو سوری نہیں بولتا”۔

اس نے فرش کو ہاتھ لگا کر، انگلیوں سے دونوں کانوں کی لو کو چھوا اور میرے سامنے پلنگ پر پیر لٹکا کر بیٹھ گئی۔ 28 یا پھر 29 سال کی عمر تھی. گورا رنگ اور بڑے سلیقے سے تیز گلابی لپ اسٹک لگا رکھی تھی. آنکھوں کے کونوں سے نکلتی کاجل کی تیز دھار نے اسکے چہرے کو ایک بہت تیکھا روپ دے رکھا تھا۔

میری نظروں کی ٹریفک کو لال سگنل دکھاتے اور ایک ابرو چڑھاتے ہوئے بولی

سیمی نام ہے میرا، گھنٹے کے لحاظ سے پیسے لیتی ہوں. موبائل نمبر نہیں دونگی اور نہ ہی ویڈیو بنانے”

“دونگی۔۔۔

لال ہوتے کانوں سے میں نے اسکی بات کاٹی

“میں یہاں عیاشی کے لیئے نہیں آیا”

کمرے میں کچھ دیر کو خاموشی چھا گئی۔

“تو پھر کیا لینے آے ہو؟”

مختصر مگر تشویش سے بھرپور سوال گونجا۔

میں نے اپنا مدعا بیان کر ڈالا۔ میری ساری بات اسنے بڑی تسلی سے سنی مگر پھرغصے سے نتھنے پھلائے اور دانت چبا کر بولی

بہت دیکھے تیرے جیسے، جو بہلا پھسلا کر ویڈیو بناتے ہیں اور کوٹھوں پر تالے لگواتے ہیں. جب تک تم”

“لوگوں کی جیبیں گرم نہ کرو تو ہمارے چولہے نہیں جلتے

یہ کہتے ہی وہ کھڑکی کی طرف دوڑی. شاید اسی آدمی کو بلانے جو مجھے اوپر لایا تھا۔ مجھے اپنے آپ پر بہت غصہ آیا اور اس وقت کو کوسنے لگا جب میں نے ٹیچر سے ٹاپک کی تبدیلی کی بات نہ کرنے کی بجائے اسی ٹاپک پر کام کرنے کو ترجیح دی تھی. لیکن اب بہت دیر ہوچکی تھی۔

اسکے آواز دینے سے پہلے ہی میں نے جھٹ سے کہا

“آپکو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا. میں وعدہ کرتا ہوں کام ہوجانے کے بعد شکل بھی نہیں دکھاوں گا. پکا۔۔۔”

وہ مڑی اور مجھے غور سے دیکھا.شاید میرے چہرے پر ناچتی سراسیمگی دیکھ لی تھی اس نےاسلیئے ایک آوارہ سی ہنسی ہنس کر کھڑکی بند کر دی۔

میں نے ٹلتی بلا کو دیکھ کر سکھ کا سانس لیا۔

وہ واپس آکر پھر سے پلنگ پر بیٹھ گئ اور آنکھوں میں قدرے نرمی لیئے پوچھنے لگی

“بولو کیا چاھتے ہو؟”

بس آپکی زندگی کی کہانی ویڈیو کے ساتھ. اس کمرے کی کچھ تصاویر، آپکے روزمرہ کے معمولات اور اس جگہ کی بھی ویڈیو درکار ہوگی۔ بے فکر رہیں آپکا چہرہ سنسر کر دیا جائیگا اور آپکی اجازت کے بغیر کوئی چیز فلم بند نہیں ہوگی۔ اس سب کیلئے ایک ہفتے تک روز آپکا کچھ وقت درکار ہوگا جسکی آپکو مناسب قیمت ادا کر دی جائیگی

میں نے ڈھابہ ہوٹلوں پر کام کرنے والے ویٹرں کیطرح اپنے سارے نصاب کا مینو ایک ہی سانس میں اگل دیا۔

یہ سب اتنا آسان نہیں جتنا آسان سمجھ کر تم یہاں چلے آئے ہو۔” گہری سانس لیتے اور اپنی چوٹی کا سرا اپنی ہتھیلی پر مارتے سیمینے کہا۔ پھرکچھ دیر سوچنے کے بعد مجھے اگلے دن آنے کا کہا۔

“کتنے پیسے ہوئے آج کے؟”

میں صوفہ سے اٹھا اور سوالیہ نظروں سے سیمی کو دیکھا. وہ میری ہی طرف بہت غور سے دیکھ رہی تھی. میری مصنوعی کھانسی اور سوال کے دھرانے سے وہ چونکی اور ایک معمولی سی رقم مانگی۔ اتنی دیر میں مغرب کی اذان ہونے لگی۔ اسنے دپٹے کا پلو سر پر ڈالا، مجھ سے بنا گنے پیسے لیئے اور

کمرے سے نکال کر دروازہ بند کر دیا۔

گھر آ کر میں کافی دیر دماغی طور پرسیمی اور اسکی گلی کے ہی چکّر لگاتا رہا۔ رات کو میں نے سوالات کی فہرست تیار کی جو میں نے اگلے دن سیمی سے پوچھنے تھے۔ یونیورسٹی کے کچھ کام نمٹائے اور سو گیا۔

اگلی شام سیمی کی گلی میں مڑتے ہی موٹی توند سے سامنا ہوگیا۔ اب چونکہ میں سیمی کی رہائش گاہ سے واقف تھا اسلیئے دور سے ہاتھ ہلا کر علیک سلیک کی اور آگے بڑھ گیا۔ آج، کل کی نسبت ڈر قدرے کم لگ رہا تھا۔ میں گلی سے لیکرسیمی کے کمرے کے دروازے تک اپنی گردن پر موٹی توند کی نظروں کی تپش محسوس کرتا رہا۔ لیکن خیر اسکی خاموشی سے اتنا تو اندازہ ہو ہی گیا تھا کہ سیمی میرے بارے میں اس سے پہلے ہی بات کر چکی ہے۔

وہاس دن ہلکی گلابی لگاے اور گہرا نیلا لباس زیب تن کئےتھی۔ چہرے پر بھی قدرے نرمی کچھ زیادہ تھی۔ رسمی سلام دعا کے بعد اور میرے منع کرنے کے باوجود، کھڑکی سے ٹوکری نیچے گلی میں لٹکای اور ٹھنڈی بوتل کا آرڈر کیا

پھر پلنگ پر آ بیٹھی اور کہنے لگی

تم میرے متعلق سب معلومات اور تصاویر کسی بھی وقت آ کر لے سکتے ہو، لیکن گلی اور محلے کی ویڈیو اور تصاویر تم نہیں لے سکتے. یہاں کے لوگوں کو اعتراضہوگا۔ اسکے لیئے میں اتنی مدد کر سکتی ہوں کہ تمہارے کیمرے سے خفیہ طریقے سے تصاویر بنا کر تمہیں دے دوں۔

ابھی شکریہ  کہنے کیلئے میں نے منہ کھولا ہی تھا کہ اسنے پیسوں کی بات بھی کر ڈالی

“تمیز والے ہو، اسلیئے پیسوں میں رعایت مل جائیگی”

مجھے اسکی کرم نوازیوں پہ شک گزرا، لیکن کچھ کہا نہیں. مجھے صرف اپنی ڈاکومنٹری میں دلچسپی تھی۔

بوتل میرے ہاتھ میں تھما کر خود شیشے کے سامنے بیٹھ گئ اور اپنے لمبے بالوں کو سنوارنے لگی

“پانی پی لو تو کام شروع کرتے ہیں”

یا تو وہ ٹھنڈی بوتل کی بے حساب ٹھنڈک تھی یا کمرے میں چھائی عجیب خاموشی، گھونٹ بھرنا محال ہو رہا تھا۔ میں نے بوتل زمین پر ایک طرف رکھتے ہوئے بیگ سے اپنا کیمرہ اور ضروری اشیاء نکالیں۔ کیمرہ کو ایک طرف سیٹ کیا اور اپنا کام شروع کیا۔

“نام؟”

“صائمہ عرف سیمی”

“عمر؟”

“گاہک کی پسند کے عین مطابق”

“کتنے عرصے سے اس پیشے میں ہیں؟”

“تقریبا پچھلے تیرہ سالوں سے”

“یہیں اس بازار میں پیدائش ہوئی؟”

“جی ہاں”

“کتنے بہن بھائی ہیں؟”

“کوئی نہیں”

“اور ماں؟”

“چار سال پہلے مر گئی”

“وہ بھی پیشہ کرتی تھیں؟”

“جی ہاں”

میں سوال پوچھتا رہا اور وہ سپاٹ چہرہ لیئے اور نپے تلے الفاظ میں جوابات دیتی رہی۔ میں ایک ہلکی پھلکی اور غیر رسمی سی گفتگو چاہتا تھا۔ لیکن اسکے جوابات ایسے نہ تھے کہ بات سے بات نکلتی۔

“پڑھی لکھی ہو؟”

“پیسے گن لیتی ہوں”

“ایک دن میں کتنے گاہک آ جاتے ہیں؟”

“کوئی مخصوص تعداد نہیں. کبھی تین، کبھی چار”

چند ہی منٹوں میں صفحہ پر درج سب سوالات ایک ایک کر کے پوچھ ڈالے۔  کیمرہ لپیٹا اور شکریہ ادا کر کے میں گھر کی طرف نکل پڑا۔ موٹر سائیکل پر سوار ہوکر جب سر کو ہوا لگی تو اپنا کام نکلوانے کے مختلف طریقے ذہن میں آنے لگے۔

اگلے دن وہ کچھ بجھی بجھی سی تھی۔ آنکھیں بھی لال ہورہی تھیں۔ میں نے بھی رسماً خیریت دریافت کر ڈالی۔

“جو وجود ہی گالی بن چکا ہو اسکا کیا حال پوچھنا؟” ایک درد بھری مسکراہٹ اسکے ہونٹوں کی سرخی سے جا ٹکرائی۔

“کالا رنگ آپ پر بہت جچتا ہے”

میں نے فضا کو نارمل کرنے کیلئے بات کا رخ بدلا۔

اپنے کرتے پرنظر ڈالتے،وہ دھیما سا مسکرائی۔ پھر دوپٹے کے پلو کی پیکو سے کھیلتے بولی

“سنا ہے رقاص گھرانے کی عورتیں یہی رنگ اوڑھ کر رات کے اندھیروں میں مجرہ کرنے جاتی تھیں”

میں نے اسکی بات کے تسلسل کو توڑنا مناسب نہ سمجھا اور بنا کوئی سوال کیئے، کیمرہ آن کر دیا۔

یہ گھر ہمیشہ سے کوٹھا نہیں تھا۔ ہماری بڑی بوڑھیاں اونچے پائے کی رقاصہ تھیں۔ میری نانی ماہتاب بیگم اپنے زمانے کی مشہور رقاصہ تھیں۔ شہر کے امراء کے گھر جب بھی رقص و سرودکی محفلوں کا اہتمام ہوتا تو ماہتاب بیگم کا نام سرِ فہرست ہوتا

“ارے تمہیں چائے پانی کا تو پوچھا ہی نہیں آج”

وہ اچانک اپنے بڑے بوڑھوں کے زمانے سے لاہور کی بدنام گلی میں واپس آگئ۔

“زندگی بھر کے نا سہی، ہفتے بھر کے تو مہمان ہو ہی تم ہمارے”

یہ کیہ کر اسنے چائے کا آرڈر دے دیا۔

“ماہتاب بیگم کے بارے میں بتا رہی تھیں آپ”

میں نے وقت ضائع کیئے بنا تجسس سے پوچھا۔

ہاں ماہتاب بیگم. لمبا قد، دبلا پتلا جسم اور تیکھے نقوش انکے رقص کو چار چاند لگا دیتے تھے۔ فرش پہ پڑتے پیروں سے چھنکتے گھنگرو اور تال پر بجتا طبلہ، تماش بینوں کو مست کر دیتا۔ لیکن اس مستی کے باوجود ماہتاب بیگم کے گھرانے کی اصول پسندی کو مدِ نظر رکھتے ہوئے کوئی انکو چھونے کی ہمت نہیں رکھتا تھا۔ ہماری بڑی بوڑھیاں جسم فروشی نہیں کرتی تھیں۔ رقاصائوں کی حفاظت کیلیئے خصوصی آدمی انکے ساتھ بھیجے جاتے تھے

سیمی نے ایک ٹھنڈی آہ بھری اور کچھ دیر کو خاموش ہوگئی. پھر پہلو بدل کر بولی

 بس یہی باتیں سنا دی جاتی ہیں جب بھی کوئی گالی پڑتی ہے، لیکن ہمارے آج کی کالک اتنی گہری ہو چکی ہے کہ ماضی کی سفیدی اسے ہلکا بھی نہیں کر سکتی

گرم چائے پیتا میں چپ چاپ سیمی کو سنتا رہا۔ اندر کہیں کمینی سی خوشی تھی کہ باتیں اگلوانے کے طریقے جو میں سوچ کر آیا تھا، آزمانے نہیں پڑے اور سیمی کے اندر کے زخم جو مجھ سے پہلے ہی کوئی چھیڑ گیا تھا، میرا کام آسان کر رہے تھے۔

نانی کی شادی ایک گائیک گھرانے میں ہوئی تھی۔ رقص چھوڑ دیا تھا انہوں نے بیاہ کے بعد۔ اس شادی کے نتیجے میں میری ماں اشناء اور خالہ رشناء نے جنم لیا۔ دونوں نانی کے جیسی تھیں، بس ذرا رنگ ہلکا سانولہ تھا. شاید رنگت کے معاملے میں نانا پر چلی گئی تھیں۔ لیکن سانولی رنگت کے باوجود چہرے پرکشش تھے

میں غیر ارادی طور پر یہ ساری خصوصیات سیمی میں تلاش کرنے لگا۔

زندگی بہت پر سکون تھی، لیکن یہ  سکون نہیں تھا بلکہ طوفان سے پہلے کا سکوت تھا۔ ایک دن کسی پرانے مداح نے محفل سجانے کی پیشکش کی جو میری نانی ماہتاب بیگم نے بنا کسی تکلف اور بہانے کے، ٹھکرا دی۔ وہ گھریلو خاتون بن چکی تھیں۔ مداح کے لیئے یہ انکار کسی ذلّت سے کم نہیں تھا۔ اسنے ماہتاب بیگم پر بیچ بازار تیزاب پھینکوا دیا، جسکا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ بری طرح سے جھلس گئیں اور دو دن سرکاری ہسپتال کے بستر پر زخموں کی دوزخ میں جلنے کے بعد تیسرے دن ابدی نیند کا غسل لیکر جنت کی سیر کو ہمیشہ ہمیشہ کیلئے نکل گئیں۔

عشاء کی اذان شروع ہوئی توسیمی سر دوپٹے سے ڈھانپ کر خاموش ہو گئی۔ الله رسولﷺ کے نام پر دونوں ہاتھوں کے انگوٹھے جوڑ کر چومے اور آنکھوں رکھے۔ اس کی اذان سے عقیدت نے مجھے اپنے گھرکی اذان کے وقت کی روٹین سے موازنہ کرنے پر مجبور کر دیا، جہاں چلتے ڈرامے کی آواز کم کر دینا اور سر کسی بھی کپڑے سے ڈھک لینا کافی سمجھا جاتا تھا۔

اذان کے ختم ہوتے ہی سیمی نے مجھے اپنی طرف غور سے دیکھتا پایا تو بولی

کیا دیکھ رہے ہو؟ اللہ کی بات نہیں مانتے تو کیا ہوا، اسکے پیارے سے عقیدت تو رکھتے ہیں.شاید اسی عقیدت سے ہی کل کو معافی مل جائے اور ہماری قبریں ٹھنڈی ہو جائیں

مجھے سیمی کی باتوں سے کافی گھٹن محسوس ہونے لگی.کلائی پر بندھی گھڑی پر وقت دیکھا اور جانے کی تیاری شروع کر دی۔ اجازت لی اور نکل پڑا۔

اگلے دن ہم نے قصہ وہیں سے شروع کیا جہاں پچھلے دن چھوڑا تھا۔

گائیکوں کے حالات اچھے نہ رہے تھے. موسیقی اور رقص کی قدر کرنے والے بہت کم رہ گئے تھے۔ موسیقی کے نام پر بے ہنگم شور اور رقص کے نام پر خوبصورت چہرے  بکنے لگے تھے۔ رقص کے گرویدہ البتہ اس وقت بھی اچھی موسیقی کے مداحوں سے زیادہ تھے۔ مالی تنگی میں شاید اسی ایک سوچ نے نانا کو مجبور کیا ہوگا جو انہوں نےماں اور خالہ کو رقص کی تعلیم دلوائی، ورنہ کسے اپنی بیٹیوں کے پیروں میں گھنگرو اچھے لگتے ہیں۔ ہوتے ہوتے، نانی کی طرح ماں اور خالہ کے رقص بھی شہرت پکڑتے چلے گئے۔ نانا گرچہ بڑھاپے کی دہلیز پار کر رہے تھے مگر اپنی بیٹیوں کو معیاری اور بیحودہ رقص کا فرق خوب اچھی طرح گھول کر پلایا کرتے تھے۔

سیمی مرے ہوں کو یاد کر کے کچھ آبدیدہ سی ہوگئ. شاید یہ اسکے مقدر کے آنسو تھے جو لیٹروں کے حساب سے اسکی قسمت میں لکھ دیئے گئے تھے۔ دوپٹے سے آنکھوں کو ایسے صاف کیا کہ کاجل کی دھار خراب نہیں ہوئی۔ پھر گویا ہوئی

وہ میر صاحب کے ہاں ماں کی بہترین محفل تھی۔ سب انکے رقص کے گرویدہ تو تھے ہی لیکن اس دن میر صاحب کا دل ماں کے رخسار کے تل پر اٹک سا گیا۔کچھ انکے مالی حالات سے بھی واقف تھے اور کچھ شاید شراب بھی زیادہ پی رکھی تھی.جب محفل کے اختتام پر امی معاوضہ لینے گئیں تو میرصاحب نے آفر کر ڈالی اور بھاری معاوضے کابھی لالچ دے ڈالا۔لیکن امی نے صاف انکار کر دیا

سر جھٹک کر سیمی کچھ دیر خاموش رہی۔

اس دن صبح سے ہی نانا جان چپ چپ تھے۔رات میر کی پیشکش کا قصہ سن چکے تھے۔ کوئی بات کر لو تو جواب دے دیتے ورنہ اپنے کمرے میں ہی دن سے شام کر ڈالی۔ رات کے کھانے کیلئے جب رشناء خالہ نانا جان کو بلانے گئیں تو اڑی رنگت کے ساتھ باہر آئیں اور امی کو آوازیں لگائیں. جب دونوں کے اٹھانے پر بھی نانا جان نہ اٹھے تو پڑوس کے لڑکوں کی مدد لیکر ہسپتال پہنچے۔ ہسپتال جا کر پتا چلا کے نانا جان تو کب کے وفات پا چکے تھے۔ ڈاکٹر نے موت کیوجہ  ہارٹ اٹیک بتائی۔

نانا جان کے گزرنے کی دیر تھی کہ لوگوں نے نظریں پھیر لیں ۔ کام ٹھنڈا پڑ گیا اور دونوں بہنوں کو چولہے کی فکرلاحق ہو گئ۔ محفلوں میں بھی لوگوں نے خاندانی رکھ رکھاو کو نظر انداز کرنا شروع کر دیا اوردست درازیاں شروع ہو گئیں۔ مداح کھلم کھلا جسم فروشی کی پیشکشیں کرنے لگے۔ مسلسل انکار اور دھمکیوں سے ماں کی جیسی موت کے بھیانک سائے دونوں بہنوں کے سروں پر منڈلانے لگے۔ آخر کار دونوں نے ہار مان لی اور جسم بیچ ڈالے۔

دوپٹے سے آنسو پونچھ کر تھوڑے وقفے کے بعد پھر بولنا شروع کیا

رشناء خالہ بڑھاپے کی تنہائی سے ڈرتی تھیں. شاید اسی لئے ہر گاہک میں شوہر تلاش کرتی تھیں۔ ایک کم عمر گاہک بلآخر ان سے شادی کو رضا مند ہو گیا اور کوٹھے سے لیجا کر گھر والوں سے چھپ کر شادی کر لی۔

“واہ انکی تو قسمت کھل گئی”

میں سیمی کی کہانی میں کافی ڈوب چکا تھا اور اسکی خالہ کے گندگی کے ڈھیر سے بچ نکلنے پہ قدرے خوشی محسوس کر رہا تھا۔ لیکن سیمی نے میری طرف دیکھا اور کہنے لگی

ایسے آسانی سے قسمت نہیں کھلتی. جب خالو کے گھر والوں کو پتہ چلا اس شادی کا تو انہوں نے زبردستی طلاق کروائی اور اپنا بیٹا لے گئے۔  خالہ اپنی چند ماہ کی بچی کو لیکر سڑک پر آگئیں۔ واپس غلاظت میں جانا منظور نہ تھا. بیٹی کو یتیم خانے کے جھولے میں ڈالا اور خود زہر کھا کر رات کے اندھیرے میں سڑک کنارے فٹ پاتھ پر جان دے دی۔

“تم لوگوں کو یہ سب کیسے پتا چلا؟”

میں نے افسوس سے پوچھا

شاید کبھی نہ پتہ چلتا اگر ایک شناسا نے پہچان کر میری ماں کو خبر نہ دی ہوتی۔  ماں نے حسبِ توفیق کفن دفن کا بندوبست کیا اور دفنا دیا خالہ کو

یہ کیہ کر سیمی نے زمین کو چھوا ، ہاتھ چومے اور کانوں کی لو کو لگائے، جیسا کے پہلی ملاقات پر کیا تھا۔ مجھ سے رہا نہ گیا اور ایسا کرنے کی وجہ پوچھ ڈالی۔

یہ جگہ ہمارے بزرگوں نے اپنے فن کی حلال کمائی سے بنائی، جس پر گندگی پھیلانے سے پہلے ہم کانوں کو ہاتھ لگا کر ان سے معافی مانگ لیتے ہیں۔

“لیکن اس وقت ایسا کیوں کیا؟”

“اپنی قبر یاد آ گئی تھی”

میں اور کچھ نا بول سکا۔ ریکارڈنگ روک دی اور سیمی کی لی ہوئی تصاویر کا جائرہ لینے لگا۔ وہ مجھے تصاویر کی تفصیلات بتانے کو ساتھ والے صوفہ پہ آگئی۔ تصویروں سے سیمی اور اس کے آس پڑوس میں رہنے والوں کی غربت کا صاف اندازہ ہورہا تھا

سنا ہے یہاں کی خواتین  آنے والے مردوں کو خوب لوٹتی ہیں. اتنی کمائی کے باوجود ایسے حالات کیوں ہیں تم لوگوں کے؟

میں پوچھے بنا نا رہ سکا

“برکت میری جان، برکت، جو صرف حلال کمائی میں ہی ہوتی ہے۔ گاہک ہماری بوٹیاں نوچتے ہیں اور دلال ہم سے ہماری کمائی۔

“تمہاری ماں اشناء کا کیا ہوا؟”

“میری پیدائش پر مر گئی، اور ہمارے کوٹھے پر کیفو اور اسکی طوائفوں نے قبضہ کر لیا”

“کیفو کون؟”

“وہی جو تمہیں یہاں لایا تھا”

“اچھا موٹی توند”

“تم اسے موٹی توند کہتے ہو؟”

“اچھا یہ بتاو اس نے مجھے روکنا کیوں چھوڑ دیاہے؟”

ذہن میں چبھتا سوال آخر آج موقع ملتے پوچھ ہی لیا۔

بہانہ لگایا تھا کہ تمھاری دوستیاں فلم انڈسٹری میں ہیں، فلم میں چانس دلاو گے. بس اسی لالچ میں تمہارہ آنا جانا برا نہیں لگتا اسے۔

“کبھی شادی کے بارے میں نہیں سوچا؟”

جانے بھی دو۔ مردوں کے اتنے رنگ دیکھ لیئے ہیں کہ سب رنگ دل سے اتر گئے ہیں۔ محبت تو اب بس ڈائجسٹ کی قسطوار کہانیوں میں ہی اچھی لگتی ہے۔

“کبھی کسی پر دل تو آیا ہوگا؟”

“ہم لوگ انسان نہیں، درد سے آرام کی گولیاں ہیں، پیناڈول جیسی۔”

اپنی بات پر وہ خود ہی ہنس دی۔

“وہ کیسے؟”

ہمارے ہاں لوگ پہلے صرف عیاشی کیلئے آتے ہیں۔ جو لطف وہ گھر والی سے نہیں اٹھا سکتے وہ ہم جیسیوں سے اٹھاتے ہیں۔ آہستہ آہستہ گھر والی درد سر اور ہم درد کی دوا بن جاتی ہیں۔ لیکن جیسے درد مستقل نہیں ہوتا، ویسے ہی دوا کا اثر بھی وقتی ہوتا ہے۔ گھر والی سے تو عمر بھر کا ساتھ ہوتا ہے۔ ہم جیسی صرف درد کے وقت کی دوا ہیں اور بس۔

سیمی کا فلسفہ بہت صقیل ہوتا تھا، دیر سے ہضم ہونے والا۔

سیمی کے کوٹھے کی سیڑھیاں چڑھتے ہفتہ کیسے گزر گیا، پتا بھی نہ چلا۔ اس دن سیمی کے ساتھ آخری ملاقات تھی میری۔ غیر ترمیم شدہ ویڈیو میرے ساتھ بیٹھ کر دیکھی اسنے۔ عجیب سی کشمکش تھی اسکے چہرے پر۔ مجھے بہت دفعہ لگا کہ کچھ کہتے کہتے رک گئی ہے وہ۔ میں نے بھی کسی جزباتی فرمائش سے بچائو کیلئے کچھ نہ پوچھا۔

اور پہلی بار خود چائے کی فرمائش کر ڈالی۔

پچھلے چار پانچ دنوں میں سیمی کو میری چائے میں میٹھے کی مقدار کا اندازہ ہو گیا تھا۔ میں نے چائے کی چسکی لی اور بٹوے سے رقم نکال کر سیمی کی طرف بڑھا دی۔ جو اسنے بنا گنے پاس پڑے تکیئے کے نیچے کھسکا دی۔ میں نے چند جملوں میں رسمی شکریہ ادا کیا جو سیمی نے چپ چاپ قبول کر لیا۔

میں بھاری طبیعت لیئے کمرے سے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے چلے جانے کیلیئے اٹھا ہی تھا کہ ایک سوال ذہن میں آگیا۔ پوچھنے کو مڑا تو سیمی بلکل پیچھے کھڑی تھی۔ ٹکر ہوتے ہوتے بچی۔

“تمہاری خالہ کی بیٹی کا کچھ اتا پتا ہے؟ کہاں ہے؟ کیا کرتی ہے آج کل؟”

بہت دیر میری آنکھوں میں دیکھنے کے بعد اسنے کہا

“تمہارے سامنے کھڑی ہے۔”

مجھے لگا شاید سننے میں غلطی ہوئی ہے

“میں کچھ سمجھا نہیں”

“میں ہی وہ لڑکی ہوں، میری کوئی خالہ نہیں ہے، میری ماں رشناء بائی کا ایک بھائی بھی تھا”

یہ کہنے کی دیر تھی کہ سیمی کا ظبط ٹوٹ گیا اور کاجل،بھری آنکھوں سے رسنے لگا۔
“پھر آپ یہاں کیسے؟”
بوکھلائے ذہن سے میں نے سوال کیا
“جنہوں نے گود لے کر اولاد کیطرح پالا تھا مجھے، انہی کی اصل اولادنے مجھے بیچ کر دو کوڑی کا کر دیا۔”

سیمی کو بہتے کاجل کی پرواہ نہیں تھی۔ کاجل کی سیاہی چھٹی تو اس پار آنکھوں میں ویرانی کی سوا کچھ نظر نہ آیا۔ رخساروں پر بہتے آنسو دوپٹے سے صاف کیئے اور میرے کوئی سوال کرنے سے پہلے بھرائی آواز میں بولی

“اچھے لڑکے ہو، آئندہ ترس کھا کر بھی اس جگہ کا رخ مت کرنا. یہ اچھی جگہ نہیں ہے۔”

خدا حافظ کہ کر اسنے دروازہبند کر دیا۔ میں جانے کتنی دیروہاں کھڑا دروازے کے پار اسکی سسکیاں سنتا رہا۔ اور کب اندھیری سیڑہیاں اتر کر موٹی توند کےسامنے سے آخری بار گزر گیا، اور کب گھر پہنچا، مجھے کچھ یاد نہیں۔ صبح اٹھا تو گزری رات ایک خواب سی لگی۔

میری ڈاکومنٹری کو کافی داد ملی. میری ڈگری بھی مکمل ہو گئی۔ اور ایک کالج میں عمرانیات پڑھانے کی نوکری بھی مل گئی۔ امی نے بہو ڈھونڈنے کی مہم بھی چلا دی۔

زندگی کی ریل ایک لمبی پٹڑی پر رواں دواں چلنے لگی۔ سیمی نام کے سٹیشن کے بعد بس اتنا فرق پڑا کہ سیمی جیسی پیشہ ور عورتوں سے گھن آنی ختم ہو گئی۔ آج بھی رات کو سڑک کنارے کھڑی گاہک تلاش کرتی نگاہوں میں سیمی کی آنکھیں تلاش کرتا ہوں۔ بہت بار دل چاہا اس کمرے کا دروازہ پھر کھلے اور پھر کوئی اپنی داستان نئے سرے سے سنائے۔ مگر میں پیناڈول کا عادی نہیں بننا چاھتا ۔