سکون

میری دنیا آوارہ دوست، فلمیں، گرل فرینڈز اور نوکری کی تلاش تھیں۔ تگڑی نوکری اور دبلی چھوکری کو زندگی کا سکون سمجھتا تھا۔ لیکن آج دونوں کی موجودگی میں بھی سکون آور گولیاں پھانکتا ہوں۔ گھر میں مذہبی ماحول کے باوجود صوم ہ صلوۃ میں دلچسپی نہ تھی لیکن اس دن شب بیداری کی بیزاری کے بیچ گونجتی فجر کی اذان سے عجیب کیفیت ہوئی اور قدم خود بخود نماز کیطرف اٹھے، آٹھ سجدے کیئے اور ہتھیلی پر چند شرمندگیاں ٹپکیں۔ رب سے قریب ہوا یا نہیں لیکن دن کی دو چار نمازوں نے آج ادویات سے دور ضرور کردیا۔

ملاقات

دل میں منوں بوجھ لیئے آج پھر کالی چادر اوڑھے وہ ڈ گمگاتے قدم بڑھا رہی تھی۔ ہر بڑھتا قدم اسکے دل کی دھڑکنیں بڑھا رہا تھا۔ ننگے پیر فرش کی پاکیزہ ٹھنڈک کو  بوجھل ہوتے وجود میں جزب کرتے گئے۔ وہاں کی معطر فضاء اور خاموشی اسے ہمیشہ بھاتی تھی۔ اس نے نظر اٹھائی اور نور کے دو ہالوں کو دیکھا: ایک محبوب دوسرا محبوب کا محبوب۔ وہ وہیں اس فرش پہ بیٹھ گئ اور کچھ بولے بنا صرف آنسوؤں کی زبان میں اپنے مسکراتے پر نور محبوب سے باتیں کرتی اپنے منوں بھاری دل کو ہلکا کرتی رہی۔

معمول

روز صبح دفتر جاتے: برابر والے انکل کو سلام کرنا، سگریٹ خریدتے دکاندار سے حال احوال پوچھنا، سامنے والوں کی بچی

کو موٹر سائیکل پر سکول چھوڑنا، اور آفس کے چپڑاسی سے لیکر باس تک سب سے پر مسرت علیک سلیک کرنا اسکا روز کا

معمول تھا۔ اخلاق کی خوشبو بکھیرتے اور لوگوں کو گرویدہ بناتے دن شام میں ڈھل جاتا۔

گھر میں شام سے رات تک سہمے بیوی بچوں پر بلا وجہ چلانے اور معمولی باتوں پر ہاتھ اٹھانے کا سلسلہ شروع ہو جاتا۔

پھر صبح ہوتی، بدصورت چہرہ اترتا، اور خوشگوار چہرہ اوڑھے وہ نوکری پہ نکل جاتا۔

(فقیرہ)

مومی

کچھ نوکری رات کی تھی، کچھ یہاں تھی بھی نئی جس کی وجہ سے میری علیک سلیک ہاسٹل کی باقی لڑکیوں کی نسبت برابر کے کمرے والی مومی سے ہی تھی۔ گھر دور ہونے کیوجہ سے اکژ ویکنڈز ہمارے ساتھ گزرتے۔ کم گو اور گہری لڑکی تھی، اکژ اپنی عمر سے بڑی بات کہ جاتی اور انتہائی توجہ سے دوسرے کی بات سننے کی عادی تھی۔
ایک دن مومی کے کمرے کی ہلچل سے میری آنکھ کھلی، باہر نکلی تو گزرتی وارڈن نے بیزاری بھانپتے ہوئے بتایا کہ مہینوں سے خالی پڑے کمرے میں نئی لڑکی شفٹ ہو رہی ہے۔

شعور

وہ بچہ جو کچھ دیر قبل کوڑے کے ڈھیر کی زینت تھا چند کاغزی کاروائی کے بعد قانونی طور پر انکے چودہ برس سے ویران پڑے آنگن کی بہار بن گیا تھا۔

اپنے وجود کی حقیقت سے آشنائی اسے ماں باپ سے اور بھی قریب لے آئی اور وہ انکی شفقت کے سائے میں شعور کی سیڑھیاں چڑھتا گیا۔

آنگن میں تیز آندھی اسکے باپ کا سایہ لے اڑی۔ وہ اب زیادہ وقت گھر سے باہر رہنے لگا یا گھر پر ماں سے لڑتا۔ ایک دن وہ گھر چھوڑ گیا، سنا تھا کہ ماں اسے اب نا محرم لگتی تھی۔

وارث

ابا تو اماں کو ہتھیلی کا چھالا بنا کر پھرتا تھا، حویلی کو وارث جو دینے والی تھی وہ۔ اور اماں بھی پہلی بار امید سے ہونے کی وجہ سے خوب ناز نکھرے اٹھواتی۔ وقت نے انگڑائ لی اور میرا اس دنیا میں آنکھ کھولنے کا دن آگیا۔ میری پیدائش کے ساتھ ہی مجھے ایک ملازمہ جسکے منہ بند رکھنے کی قیمت اسکے پلّو میں باندھ دی گئی تھی، ساتھ پچھلے دروازے سے روانہ کر دیا گیا۔ اس دن حویلی میں سفید چادروں سے میرے مرنے کا  سوگ منایا گیا جبکہ گرو جی کے ہاں میری آمد کا جشن۔

(فقیرہ)

ارمان

دل میں ڈھیروں ارماں سجاۓ وہ اس دن کے خواب پچھلے کیٔ سالوں سے دیکھ رہی تھی۔ غربت اور بنا مرد کے سہارے کے اسکی ماں نے اسکے سب ارماں پورے کرنے کی کوشش کی تھی۔ وہ بہت خوش تھی، خوب سجی سنوری، خوب سرخی پاؤڈر لگایا، اس فن میں وہ مہارت رکھتی تھی۔ ڈھلتی شام جوق در جوق مہمان لانا شروع ہو گیٔ۔ کچھ دیر بعد اسے لایا گیا جہاں سب اپنی نشستوں پر براجماں تھے۔ موسیقی نے رنگ بکھیرے اور اسکے گھنگروؤں نے طبلےکی تھاپ سے مل کر خوب جیبیں ہلکی کیں۔ آج اسکا پہلا مجرہ کامیاب رہا۔