تم

میری ابتدا بھی تم
میری انتہا بھی تم

جو سوچ کا پہلو بدلو تو
امید کے ڈھلتے سورج کی
موہوم سی آخری کرن بھی تم

میری ابتدا بھی تم
میری انتہا بھی تم

میرے جزبات کے بہتے دھاروں کا
ٹھنڈا نیلا پانی تم
میری موجیں تم، میرا ساحل تم

میری ابتدا بھی تم
میری انتہا بھی تم

میرے پت جھڑ جیسے جیون میں
گلاب سا کھلتا پھول بھی تم
میری بہار کے سارے رنگ بھی تم

میری ابتدا بھی تم
میری انتہا بھی تم

اڑتا پنچھی

وہ تو اڑتا پنچھی تھا
آزاد ہواوں کا ساتھی تھا

جب رواجوں کی تیز قینچی سے
مخملیں پر تراشے گئے
جب انا کے تنگ پنجرے میں
رات دن گزارے گئے

جب مچلتی امنگوں کی بادِ نسیم
دل کے تار بجاتی تھی
بہت پر پھڑپھڑاتا تھا
جب اندر ہوک سی اٹھتی تھی

وہ تو اڑتا پنچھی تھا
آزاد ہواوں کا ساتھی تھا

جب سرد سلاخوں کے بیچ سے
کھلا آسماں دکھتا تھا
بہت شور مچاتا تھا
جب سانسیں گھٹ سی جاتی تھیں

جب خلوص بھرے ہاتھوں سے
پنجرہ کھولا جاتا تھا
منافقت چھلکنے لگتی تھی
جب دانا پانی بھر جاتا تھا

وہ تو اڑتا پنچھی تھا
آزاد ہواوں کا ساتھی تھا

آج پھر کچھ ہاتھوں نے
امید کا در کھولا تھا
ہاتھ جم سے گئے تھے
جب ساکت وجود پایا تھا

بکھرے پروں کے درمیاں
وہ آنکھیں کھولے لیٹا تھا
بیتابی کہیں نہ دکھی تھی
شاید ہوائیں ملنے آئیں تھیں

وہ تو اڑتا پنچھی تھا
آزاد ہواوں کا ساتھی تھا

(فقیرہ)

الف

ویکھ بندیا کی کیندا الف
اک دا اشارہ کرے الف

نہ آرے نہ دوارے
سدی راہ وکھائے الف

نہ نکتیاں دے سہارے
کلّا کھلوتا کافی الف

نہ زیر زبر دے اشارے
فیر وی بہت کج کیندا الف

(فقیرہ)

محبت پھول جیسی ھے

محبت پھول جیسی ھے۔ ۔ ۔
جو زمیں سے عشق رکھتی ھے
تند و تیز آندھی میں
خود کو وار دیتی ھے
زمیں سے ہاتھ اپنا
مگر تھامے رکھتی ھے

محبت پھول جیسی ھے۔ ۔ ۔
جو خود میں رنگ رکھتی ھے
مہکتے جزبات کی تتلیوں کو
ھمیشہ سنگ رکھتی ھے
خوشی سے جھوم اٹھتی ھے
سرشار ہوا جب چلتی ھے

محبت پھول جیسی ھے۔ ۔ ۔
جو ساتھ کانٹے رکھتی ھے
چھین کے لیجانے والے کو
لہو لہان کرتی ھے
اپنا ھسار کرتی ھے
زمیں سے عشق جو کرتی ھے

محبت پھول جیسی ھے۔ ۔ ۔
ہجر کی خزاوں میں
مرجھا کے بیٹھ جاتی ھے
سوکھ کے بکھر جاتی ھے
زمیں سے لپٹ جاتی ھے
ملن کی بہاروں کا
پھر انتظار کرتی ہے
محبت پھول جیسی ھے۔ ۔ ۔

اسی چلّے

images
Source: 123rf.com

 

اسی رولے پاندے پھردے آں
عشق دے
کدی دین دے

پر گل کوئی مننی آندی نئیں
سچے رب دی
رسول ﷺ دی

اسی چندے منگدے پھردے آں
مسیتاں دے
قرآنی محفلاں دے

پر نمازاں پڑھنیاں آندیاں نئیں
سویرے دیئاں
تے شام دیئاں

اسی چم چم بندے پھردے آں
تعویز، تاگے
کدی تالے

پر گلاں رب نال کیتیاں نئیں
سکھاں دیئاں
کدی دکھاں دیئاں

اسی پر پر دیگاں ونڈدے آں
کدی وچ بازارے
کدی مرشد پاک مزارے

کار دے نوکردی فکر نہ کیتی
پکھا جا کے سو گیا
اڈیکدا روٹی ٹکر

اسی رولے پاندے پھردے آں
عشق دے
کدی دین دے

پر گل کوئی مننی آندی نئیں
سچے رب دی
رسول ﷺ دی

(فقیرہ)

زندگی

12805736_1713571125526597_2283988571467382181_n
Source:  Facebook/Maanomarqazi

 

سنو لوگو، کبھی جو تم سوچو
جو بیت رہی کیا ہے یہ زندگی

جو نہ ٹل سکے نہ گزر سکے
وہی کشمکش ہے یہ زندگی

جو نہ سلجھ سکے نہ کھل سکے
وہی الجھی ڈور ہے یہ زندگی

جو نہ کٹ سکے نہ تھم سکے
وہی طوفانی رات ہے یہ زندگی

عجیب کشمکش ہے یہ زندگی

جو نہ آر ہے نہ پار ہے
وہی چوراہا مانند ہے یہ زندگی

جو آ گھیرے نہ نکلنے دے
طلاطم خیز موج ہے یہ زندگی

جو نہ قابو ہو بس پھسلتی جائے
وہی مٹھی بھر ریت ہے یہ زندگی

جو نہ گزرے گزارے جانے سے
بس ایسی بے ڈھنگ ہے یہ زندگی

(فقیرہ)