ریسائیکلنگ آف ویسٹ مٹیرئل

“جانے کیا کیا گند بلاء سنبھال کر رکھتی ہے یہ لڑکی” بواء نے ریا کی الماری میں، دھلے کپڑے رکھتے ہوئے، قدرے جھلا کر کہا۔ یہ جملہ ہم گھر والوں کے لیئے نیا نہیں تھا۔ ہر روز صبح شام، اٹھتے بیٹھتے، ریا کو ردی سنبھال کر رکھنے پر، بواء سے ایسے ہی ڈانٹ پڑتی تھی۔ وہ بھی چپ چاپ سن لیتی تھی. آخر کیوں نہ سنتی، ماں کی طرح پالا تھا بواء نے ہمیں۔

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

ہمارا گھرانہ چار افراد پر مشتمل ہے: پتا جی، بواء، ریا اور میں…. پریا۔ پتا جی ممبئی کے بہت بڑے نہ سہی مگر، اوسط درجے کے کامیاب کاروباری آدمی ہیں. میں انکی بڑی بیٹی پریا۔۔۔ میڈیکل کی تعلیم کے بعد ہاؤس جاب کر رہی ہوں؛ اور ریا۔۔۔ شہر کے مشہور کالج سے آرٹس میں ماسٹرز کر رہی ہے. ماتا جی ریا کے پیدائش کے وقت ہی انتقال کر گئیں تھیں۔ بواء ہماری بہت پرانی ملازمہ ہیں جنہوں نے ہم دونوں بہنوں کو، ماں بن کر پالا۔

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

پتا جی کاروباری سوچ رکھنے والے انسان، بڑی کوشش کے باوجود ریا کو میڈیکل کی فیلڈ اپنانے کیلئے آمادہ نہ کر سکے۔ وہ اگلے کچھ عرصہ میں ایک جدید سرجیکل ہسپتال بنانے کا سوچ رہے ہیں جسکے لیئے وہ ہم دونوں بہنوں کو، ڈاکٹر بنانا چاہتے تھے۔ میں چونکہ شروع سے سائنس میں دلچسپی رکھتی تھی، لہٰذا پتا جی کی خواہش کا احترام کرنا مجھے بالکل مشکل نہ لگا۔ لیکن ریا کچھ الگ ہی قسم کی چیز تھی۔ فائدہ نقصان کہاں سوچتی تھی۔ ہمیشہ اپنی مرضی کرتی تھی۔ اسکا رجحان ہمیشہ سے ہی، آرٹس کی طرف تھا، اور اس نے آرٹس میں ہی تعلیم حاصل کرنے کو ترجیح دی۔ پتا جی کی بھی لاڈلی تھی اسلئے زور زبردستی نہیں کی گئی۔

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

آج بھی بواء کو ریا کی الماری سے گتے کے کارٹن کی کترنیں، ختم شدہ ٹشو رولز، کچھ کنکر اور چھوٹی چھوٹی لکڑی کی شاخیں ملیں۔ الماری کو الماری کم اور کباڑ خانہ زیادہ پا کر انہوں نے حسب عادت ریا کے شوق کو بہت کوسا۔ اسے ناکارہ اشیاء کو کام میں لانے کا شوق اس وقت سے ہو گیا تھا جس دن اسکی آرٹس ٹیچر نے، اپنی کلاس کے بچوں کو “Recycling of waste material” پر لیکچر دیکر، ہوم ورک میں گھر کی اشیاء کی مدد سے کوئی آرٹ بنانے کا کہا تھا۔ اسوقت ریا کا ماچس کی ڈبیوں سے بنا جیولری باکس بہت سراہا گیا تھا۔ بس وہ دن تھا کہ اس کے بعد آئس کریم سٹکس، خالی جام کی شیشیاں، گتے کے ڈبوں کی پیکنگز اور ان جیسی بے شمار اشیاء، ردی میں جانے کی بجائے، ریا کی الماری میں جانے لگیں۔ اور وہ ان معمولی چیزوں سے وال ہینگنگز اور کارڈز بنانے لگی۔ ـ

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

آج وہ کالج سے واپسی پر میرے ہاسپٹل آگئی جہاں میں ہاؤس جاب کر رہی ہوں. آج ڈرائیور چھٹی پر تھا اور ہم دونوں نے گھر اکھٹے جانا تھا۔ ریا، کانوں میں ھینڈز فری لگائے ایک کونے میں بیٹھی، ایمرجنسی میں آتے جاتے مریضوں کو تکتی رہی۔ شام کو جب واپسی ہوئی تو وہ چپ چپ تھی۔ میں نے دن بھر کی تھکاوٹ سمجھ کر کچھ نہ پوچھا۔ لیکن جب رات کا کھانہ کھائے بنا وہ سونے چلی گئی تو مجھے کچھ تشویش ہوئی۔ میں کھانے سے فارغ ہو کر کمرے میں آئی تو اس کو جاگتے ہوئے پایا۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

“تمہیں دن بھر لوگوں کو تکلیف میں دیکھ کر کچھ نہیں ہوتا”؟ میرے بستر پر لیٹنے کی دیر تھی کہ ریا نے جھٹ سوال کر ڈالا۔ “لوگوں کی تکلیف میں میری روزی روٹی لکھی ہے. مجھے بھلا مریضوں کی بیماری کیوں چبھنے لگی”؟ اتنے سفاک جواب کی ریا کو مجھ سے بلکل امید نہیں تھی اسلئے اس نے کچھ دیر مجھے دیکھا اور پھر منہ پھیر کر لیٹ گئی۔ میرے پیشے نے مجھے شاید بے حس بنا دیا تھا، لیکن ریا بچپن سے بہت حساس تھی۔ فلموں اور ڈراموں میں بھی کسی کو تکلیف میں نہیں دیکھ سکتی تھی۔ میں ابھی لیٹنے ہی لگی تھی کہ کمرے کے دروازے پر دستک ہوئی اور پتا جی اندر آ گئے۔ وہ بھی ریا کے کھانے کی ٹیبل پر غیر موجودگی کو محسوس کر چکے تھے۔ آتے ہی اس کے بستر پر بیٹھے اور بہت پیار سے ریا کے چہرے کو اپنی طرف کر کے خیریت پوچھی۔ بہت لاڈلی جو ہے انکی۔ ریا کی آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے اسکے سر میں درد کا منہ بولتا ثبوت تھے۔ “بس آج تھکاوٹ کچھ زیادہ ہوگئی اسلئے سر درد کر رہا ہے اور من نہیں کیا کچھ کھانے کو” ریا نے پتا جی کو تسلی دی تو انہوں نے برابر دراز سے سر درد کی گولی نکالی اور پانی کے گلاس کے ساتھ چپ چاپ رکھ دی. یہ انکا سٹائل تھا. شاید سب باپ ایسے ہی ہوتے ہیں: دلوں میں خاموش محبت لیئے۔ یہ تو عورتیں ہی ہوتی ہیں جو اپنی محبت کا واویلہ مچاتی ہیں اور جتاتی ہیں، جیسے کہ بواء۔ پتا جی نے پہلے اسکا اور پھر میرا ماتھا چوما اور گڈ نائیٹ کہ کے چلے گئے۔

اب باری تھی بواء کی۔۔۔ رسوئی سے کام ختم کر کے بڑی سی کھانے کی ٹرے لئے وہ اب ریا کے بیڈ پر تھیں۔

“اٹھو ریا رانی۔۔۔ ایسے نہ کو کرتے نہ جی۔۔۔ رات کو بھوکا پیٹ لیئے نہ کو سوتے ۔۔۔ اٹھو رانی۔۔۔ پالک پنیر بنائی تمھارے لیئے۔۔۔ سپیسل

مختصر یہ کہ بواء نے زبردستی ریا کو دو چار نوالے اپنے ہاتھوں سے کھلائے اور دودھ کے ساتھ دوا کھلا کر سونے چلی گئیں۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

وقت کے پرندے کو پر لگے اور اس نے اڑنا شروع کر دیا۔ میں ایک سرجن کے طور پر، پتا جی کے بنائے ہاسپٹل میں، اپنی ذمے داریاں نبھانے لگی۔ جبکہ ریا ایک انٹیریئر ڈیزائنر بن گئی۔ زندگی معمول پر گامزن تھی کہ اچانک ریا کے برین ٹیومر کی خبر نے ہم سب کو ہلا کر رکھ دیا۔ ٹیسٹ کرانے پر معلوم ہوا کہ ٹیومر کافی پھیل چکا ہے اور ناقابل علاج ہے۔ پتا جی کی تو راتوں کی نیندیں اڑ گئیں۔ انہوں نے نا صرف اندرون ملک بلکہ بیرون ملک بھی، ریا کی رپورٹس ڈاکٹرز کو دکھائیں، لیکن سب بے سود۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

فون بند کرتے ہی میں نے گھر کا رخ کیا جہاں پتا جی اور ریا ایک دوسرے کے گلے لگے رو رہے تھے، جبکہ بواء رسوئی میں آنکھیں سجائے ریا کی من پسند چاومن بنانے میں مصروف تھیں۔ انکی کوشش یہی ہوتی تھی کہ ریا کسی طرح کچھ کھا لے اور انکو سکون آئے، کیونکہ آج کل اسنے بلکل کھانا پینا چھوڑا ہوا تھا۔ مجھے پتا جی نے آج گھر جلدی بلوا لیا تھا۔ ریا کی طبیعت کافی خراب تھی۔ اس نے اپنے آخری دن ہاسپٹل کی بجائے گھر میں ہم سب کے ساتھ گزارنے کو ترجیح دی۔ دن بھر باتیں کرتے، ریا کو زبردستی کھانہ کھلاتے اور ایک دوسرے سے آنسو چھپاتے گزر گیا۔ رات سب نے جاگ کر گزاری کیونکہ ریا تکلیف میں تھی اور ہم اسکی تکلیف کی تکلیف میں۔ وہ رات اسکی زندگی کی کتاب کا آخری ورق ثابت ہوئی۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

گھر میں آخری رسومات مکمل کرنے کے بعد ریا کی باڈی کو شمشان گھاٹ لیجانے کیلئے ایمبولینس میں رکھ دیا گیا۔ لیکن یہ کیا؟ گاڑی کو تو دائیں مڑنا چاہیئے تھا اور وہ سیدھا ہی چلی جا رہی تھی، اپنے ہاسپٹل کی جانب۔ پہلے تو مجھے اور بواء کو لگا کہ غم کے زیر اثر پتا جی اپنے حواس میں نہیں ہیں لیکن جب انکو ڈرائیور سے باتیں کرتے پایا تو تشویش ہوئی۔ تشویش کے مارے مجھ سے رہا نہ گیا اور میں نے آہستگی سے ہاتھ بڑھا کر پتا جی کا شانہ دبایا۔ انہوں نے گردن گھما کے ایک نظر مجھے دیکھا اور بنا الفاظ، نم آنکھوں سے مجھے کچھ سمجھانے کی کوشش کی۔ میں باوجود کوشش ان کی بات نہ سمجھ سکی اور بواء کے ساتھ خاموشی سے گاڑی کے منزل تک پہنچنے کا انتظار کرنے لگی۔ میرا اندازہ ٹھیک ہی نکلا۔ ایمبولینس ہمارے ہاسپٹل کے مرکزی دروازے کے سامنے جا رکی. ریا کی باڈی کو آپریشن تھیٹر لیجایا گیا۔ میں اور بواء یہ سمجھنے سے قاصر تھے کہ ریا کا ہاسپٹل میں اب کیا کام۔ ہماری حیرانی دیکھ کر پتا جی نے ہمیں تھیٹر کے باہر بنچ پر بیٹھا دیا۔ خود بھی برابر آ کر بیٹھ گئے۔ میرا ہاتھ مستقل انکے ہاتھ میں تھا۔ اور وہ اپنے دونوں ہاتھوں سے میرے ٹھنڈے پڑتے ہاتھ سہلا کر پیار اور ہمدردی کی گرمی دیتے رہے۔ بواء بھی سفید ساڑھی کا پلو منہ پر رکھے روتی جا رہی تھیں، آنسوءں کا اک سیلاب تھا انکی آنکھوں میں جو ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا۔ میں نے سوالیہ نظروں سے پتا جی کی طرف دیکھا کیونکہ اس وقت مجھے ہمدردی سے زیادہ اس جواب کی تلاش تھی جو ابھی کچھ دیر پہلے تھیٹر لیجایا گیا تھا۔ ساری زندگی میں نے بیجان وجود اس تھیٹر سے نکلتے دیکھے تھے، لیکن آج پہلی بار ایک مردے کو اندر جاتے دیکھ رہی تھی۔ پھر پتا جی نے نم آنکھوں کے ساتھ نرمی سے بولنا شروع کیا اور میں اور بواء تو بس انکی طرف دیکھتے ہی رہ گئے۔ وہ ریا کے بارے میں بولتے جا رہے تھے اور مجھے ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ میں اس لڑکی کو جانتی تک نہیں۔ جبکہ بواء اب دونوں ہاتھوں سے اپنا دل تھامے، ہونٹ دانتوں میں دبائے، آنکھیں بھینچے اپنا بین ظبط کیئے ہوئے تھیں۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

“پتا جی، جب لوگ مر جاتے ہیں تو انکی باڈی کا کیا کرتے ہیں”؟

“بیٹا۔۔۔ ہم اسکو خوشبو لگا کر نہلاتے ہیں اور اسکو جلا کر اسکی مٹی گنگا میں بہا دیتے ہیں”

“ان انکل کا دیہانت کیسے ہوا تھا”؟

“انکے پھیپھڑے بالکل خراب ہو چکے تھے۔ بہت عرصہ سے آکسیجن کے سہارے زندہ تھے. بس…..اسکے بنا انکا گزارہ نہیں تھا.”

ریا کو میری بات سمجھ آئی یا نہیں. لیکن وہ تھوڑی دیر کو چپ ہو گئی۔ پھر پوچھنے لگی:

“ابا! کچھ دن پہلے میری سائیکل خراب ہوگئی تھی، وہ کیسے ٹھیک ہوئی”؟

میں ریا کے اس بے تکے سوال پر حیران ہوا لیکن جواب دیئے بنا تو شما ملنے والی نہیں تھی۔

“سائیکل کے بریک شو خراب تھے، نئے ڈالے اور سائیکل پھر سے ٹھیک ہوگئی”۔

“بریک شو کہاں سے ملتے ہیں”؟

میں اس سوال جواب سے زرا جھلا گیا۔

“مکینک کے پاس سے بیٹا.”

“تو انکل کو بھی مکینک کے پاس لے جاتے، وہ بھی ٹھیک ہو جاتے.”

موقع نہیں تھا لیکن مجھے بہت ہنسی آئی جو کہ ضبط کرنی پڑی۔

پتا جی مجھے بتاتے بتاتے ایک بار پھر مسکرا دیئے۔

“انسانوں کو ٹھیک کرنے کیلئے ڈاکٹر ہوتے ہیں، مکینک نہیں، میرے بچے.”

“ڈاکٹرز نے انکل کو کیوں ٹھیک نہیں کیا”؟

“انکے پھیپھڑے مکمل خراب ہوچکے تھے، اسلیئے.”

“تو نئے لگا دیتے نا.”

میں منہ تکتا رہ گیا ریا کا۔

“ڈاکٹرز کے پاس پھیپھڑے نہیں تھے.”

“this is so irresponsible papa”

(کتنی غیر زمہ دارانہ بات ہے)

“شش۔۔۔”

پریا۔۔۔ جانتی ہو؟ وہ چھ سال کی تھی جب اس نے مجھ سے میرے عزیز کی وفات پر یہ سوالات کیئے تھے، اور میں نے اس وقت اسے جھڑک دیا تھا۔” پتا جی آنسوں کے بیچ مسکرائے۔

_________________________

اندر آپریشن تھیٹر میں ریا کے اعضاء اسکی آخری خواہش کے احترام میں عطیئے کی غرض سے نکالے جا رہے تھے، جبکہ باہر پتا جی کی حالت اس دیوالیہ نکلے آدمی کی سی تھی جس کے زندگی بھر کے اثاثے اسکی نظروں کے سامنے نیلام کیئے جا رہے ہوں۔

(عروج ذکاء)

Advertisements

دیوا

توں تن بنایا

تن وچ فیر من بنایا

من دے اندر، اک کونا ھو

نہ کوئی سختی

نہ کوئی ہڈی

پریتاں نال بنایا تو

مٹی دی فیر ٹھیری لے کے

دیوا جیا بنایا تو

محبتاں دا تیل وچ پا کے

صبر دے روں دی بتی پا کے

اوس دیوے اگ لائی تو

دل دا کونہ ستھرا کر کے

اپنی خوشبو وا وا پر کے

دیوے وچ سجایا ھو

گن گن مٹی

بن بن بتیاں

کنے دیوے بنائےتو

توں من لشکایا

تن وی سونا توں چمکایا

بندہ سونا بنایا تو

روحاں پھکیاں

جاناں پائیاں

اس ٹیری کمے لایا تو

اس ٹیری اکھاں موڑ لیاں

باتاں شاتاں بھل گئیاں

ویکھ کے دنیا ساری ھو

دیوے دا اسی تیل جلایا

روں دی بتی ساڑ مکائی

دل دے ٹوٹے ٹوٹے ھو

Faqeera

باپ

باپ کی اہمیت اپنے بچوں کی زندگی میں ایک گرم استری کی مانند ہوتی ہے۔۔۔ جسکی حرارت اور تپش جب تک کردار کی شکنوں کو نہ پہنچے۔۔۔ کردار نہیں بنا کرتے۔۔۔

میرا کنارہ

 

 

 

میں سمندر کا پانی

تم ساحل کا کنارہ

میں ہمیشہ تیرے سامنے

تم ہر پل میرے پاس
میں سستاوں تو تم پہ

ٹکراوں تو تم سے

خوشی میں مسکراہٹ

میرے غم کا سہارا تم

 

میں سمندر کا پانی

تم ساحل کا کنارہ

(فقیرہ)