تم

میری ابتدا بھی تم
میری انتہا بھی تم

جو سوچ کا پہلو بدلو تو
امید کے ڈھلتے سورج کی
موہوم سی آخری کرن بھی تم

میری ابتدا بھی تم
میری انتہا بھی تم

میرے جزبات کے بہتے دھاروں کا
ٹھنڈا نیلا پانی تم
میری موجیں تم، میرا ساحل تم

میری ابتدا بھی تم
میری انتہا بھی تم

میرے پت جھڑ جیسے جیون میں
گلاب سا کھلتا پھول بھی تم
میری بہار کے سارے رنگ بھی تم

میری ابتدا بھی تم
میری انتہا بھی تم

Advertisements