اڑتا پنچھی

وہ تو اڑتا پنچھی تھا
آزاد ہواوں کا ساتھی تھا

جب رواجوں کی تیز قینچی سے
مخملیں پر تراشے گئے
جب انا کے تنگ پنجرے میں
رات دن گزارے گئے

جب مچلتی امنگوں کی بادِ نسیم
دل کے تار بجاتی تھی
بہت پر پھڑپھڑاتا تھا
جب اندر ہوک سی اٹھتی تھی

وہ تو اڑتا پنچھی تھا
آزاد ہواوں کا ساتھی تھا

جب سرد سلاخوں کے بیچ سے
کھلا آسماں دکھتا تھا
بہت شور مچاتا تھا
جب سانسیں گھٹ سی جاتی تھیں

جب خلوص بھرے ہاتھوں سے
پنجرہ کھولا جاتا تھا
منافقت چھلکنے لگتی تھی
جب دانا پانی بھر جاتا تھا

وہ تو اڑتا پنچھی تھا
آزاد ہواوں کا ساتھی تھا

آج پھر کچھ ہاتھوں نے
امید کا در کھولا تھا
ہاتھ جم سے گئے تھے
جب ساکت وجود پایا تھا

بکھرے پروں کے درمیاں
وہ آنکھیں کھولے لیٹا تھا
بیتابی کہیں نہ دکھی تھی
شاید ہوائیں ملنے آئیں تھیں

وہ تو اڑتا پنچھی تھا
آزاد ہواوں کا ساتھی تھا

(فقیرہ)

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s