سفید کالے پتلے

ہمارے ارد گرد بہت سے سفید کالے پتلے منڈلاتے ہیں جن میں سے بعض کے ساتھ آئے دن اختلافِ رائے رہتا ہے۔ یہ اختلاف ایسے جھگڑوں کو جنم دیتا ہے جو ان پتلوں سے دلی لگاو کو گھٹا دیتا ہے اور بدلے کڑواہٹ چھوڑ جاتا ہے۔ پتلے اپنی اہمیت کھونے لگتے ہیں، اور ہم انکی خوشی اور دکھ کی پرواہ کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔ یہ پتلے کوئی بھی ہو سکتے ہیں: دوست احباب، رشتے دار، پڑوسی، دفتری ملازمین، والدین، بہن بھائی، اور راہ گیر وغیرہ۔

ان کڑوے لمحوں کے بیچ پھر ایک وقت آتا ہے، ملاقات کا وقت۔ جب اللہ آپ کے سامنے آ بیٹھتا ہے اپنی پوٹلی لیئے۔ اسکی پیار بھری میٹھی مسکراہٹ سے آپ اندازہ لگا لیتے ہیں کہ جتنا مانگیں گے جو مانگیں گے مل جائیگا۔ تب آپ کے دماغ میں خود کی بنائی ہوئی مادی خواہشات کی لسٹ ابھرتی ہے، انگوٹھے کو چھوٹی انگلی پر دبائے پہلی خواہش بولنے ہی لگتے ہیں تو زبان رک سی جاتی ہے اور نظر کے سامنے سفید کالے پتلے منڈلانے لگتے ہیں۔

ایسے میں زبان صرف پتلوں کے لیئے رنگ مانگتی ہے، پیار، احساس، سکون، اور خیر کے رنگ، اور اللہ پوٹلی میں سے کسی جادو گر کی طرح مانگے گئے رنگ نکال کر ان پتلوں میں بھرنے لگتا ہے۔ پھر وہ پتلے جب رنگوں سے نکھر کر سامنے آتے ہیں تو پتلے نہیں جیتے جاگتے وجود محسوس ہوتے ہیں، جنکی خیر آپکو اپنی خواہشات سے زیادہ اہم لگتی ہے۔ اس وقت آپکو انکی اپنی زندگی میں موجودگی اور اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے اور انکے لیئے کڑواہٹ قدرے کم محسوس ہوتی ہے۔

(فقیرہ)

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s