ملاقات

دل میں منوں بوجھ لیئے آج پھر کالی چادر اوڑھے وہ ڈ گمگاتے قدم بڑھا رہی تھی۔ ہر بڑھتا قدم اسکے دل کی دھڑکنیں بڑھا رہا تھا۔ ننگے پیر فرش کی پاکیزہ ٹھنڈک کو  بوجھل ہوتے وجود میں جزب کرتے گئے۔ وہاں کی معطر فضاء اور خاموشی اسے ہمیشہ بھاتی تھی۔ اس نے نظر اٹھائی اور نور کے دو ہالوں کو دیکھا: ایک محبوب دوسرا محبوب کا محبوب۔ وہ وہیں اس فرش پہ بیٹھ گئ اور کچھ بولے بنا صرف آنسوؤں کی زبان میں اپنے مسکراتے پر نور محبوب سے باتیں کرتی اپنے منوں بھاری دل کو ہلکا کرتی رہی۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s