معمول

روز صبح دفتر جاتے: برابر والے انکل کو سلام کرنا، سگریٹ خریدتے دکاندار سے حال احوال پوچھنا، سامنے والوں کی بچی

کو موٹر سائیکل پر سکول چھوڑنا، اور آفس کے چپڑاسی سے لیکر باس تک سب سے پر مسرت علیک سلیک کرنا اسکا روز کا

معمول تھا۔ اخلاق کی خوشبو بکھیرتے اور لوگوں کو گرویدہ بناتے دن شام میں ڈھل جاتا۔

گھر میں شام سے رات تک سہمے بیوی بچوں پر بلا وجہ چلانے اور معمولی باتوں پر ہاتھ اٹھانے کا سلسلہ شروع ہو جاتا۔

پھر صبح ہوتی، بدصورت چہرہ اترتا، اور خوشگوار چہرہ اوڑھے وہ نوکری پہ نکل جاتا۔

(فقیرہ)

Advertisements

4 thoughts on “معمول

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s