بارش

سردیوں کی آمد تھی اور بارش تھی کہ آنے کا نام نہ لیتی تھی۔ خشک خنکی نے کلینکس پر رونق کر رکھے تھے۔ کہیں گلا خراب تو کہیں بخار، کہیں کھانسی تو کہیں بہتی ناک۔ ایسے میں ادویات بھی بے اثر لگتی تھیں، کھاتے جاو کھاتے جاو، معدے خراب کر لو لیکن اصل بیماری وہیں کی وہیں۔ بارش نے آنا تھا تو ہی ان بیماریوں نے پیچھا چھوڑنا تھا۔
اس ساری صورتِ حال کو دیکھتے ہوئے نمازیوں نے جمعہ کی نماز کے بعد ابر رحمت کیلیئے خصوصی دعائیں کیں، جنکی نمازیں رہ گئیں انہوں نے بارش کی نییت کر کے اللہ کے پانچ نام اپنے اپنے موبائلز میں محفوظ تمام کانٹیکٹس کو ارسال کر دیئے، جبکہ نوجوان نسل نے سوشل میڈیا پہ آیاتِ کریمہ کے ٹیگز کیئے۔ بلآخر شام کو گہرے سرمئی بادلوں نے علاقے کا چکر لگایا، اور ہلکی سی گرج کے ساتھ ٹپ ٹپ برسنا شروع کر دیا۔ لیکن یہ کیا؟ ہوا آئی اور اپنے ساتھ بادل لے اڑی۔ شاید وہ کہیں اور کے بادل تھے جنہیں ہوا راستہ دکھانے آئی تھی، لیکن یہاں کی گرد آلود پیاسی زمین کی پیاس چند قطروں سے بھڑکا کر چلی گئی اور رخساروں میں پڑے گڈوں کی طرح کر گئی۔ بیماریاں بھی وہیں تھیں اور ادویات بھی۔۔۔
ہم غموں سے ڈرتے ہیں کہ وہ دلوں میں دکھ اور آنکھیں نم چھوڑ جاتے ہیں۔ لیکن اسکے بعد کی کیفیت کی کوئی بات نہیں کرتا، اس سکون کی، اس ہلکے پن کی جو دل کھول کر آنسو بہا دینے کے بعد پیدا ہوتی ہے۔ وہ آنسو جو کسی شفیق کاندھے پر بہائے جائیں ، بند کمرے کی تنہائی میں، اللہ کے حضور یا کسی بھی اور طریقعے سے آنکھ سے نکال دیئے جائیں۔
یہ آنسو بارش کا سا کام دیتے ہیں جو اندر کے غبار کو یا تو وقتی طور پر دبا دیتے ہیں یا اپنے ساتھ بہا دیتے ہیں۔ جیسے بارش کی تاخیر باہر کی فضا کو ابر آلود کیئے دیتی ہے اور مختلف قسم کی جسمانی بیماریوں کا باعث بنتی ہے، بلکل اسی طرح آنسووں کی تاخیر ہمارے اندر کے غبار کو بڑھنے دیتی ہے اور مختلف قسم کی نفسیاتی بیماریوں کا باعث بنتی ہیں۔ رویا اگر گھٹ کر جائے تو وقتی طور پر تو اندر کا گرداب بیٹھ جاتا ہے لیکن کبھی نا کبھی سر ضرور اٹھاتا ہے۔
اسی لیئے کبھی آپ اپنے آپکو بے بس پائیں تو اس بیبسی کو آنکھوں کے راستے نکال دیں، کیونکہ گھٹا ہوا انسان یا تو اندر بیماریاں پالتا ہے یاارادی/ غیر ارادی طور پر معاشرتی بیماریوں کا باعث بنتا ہے۔
(فقیرہ)

Advertisements

11 thoughts on “بارش

      1. Only on blog…. 🙂

        In my blog, the category “Dialogues” are purely my own writings…..

        In “Al Kitaab”, a study and compilation of The Book is under-way…

        In all other categories, more of it is material from other sources…….and less of it is my own words.

        Like

  1. جنکی نمازیں رہ گئیں انہوں نے بارش کی نییت کر کے اللہ کے پانچ نام اپنے اپنے موبائلز میں محفوظ تمام کانٹیکٹس کو ارسال کر دیئے، جبکہ نوجوان نسل نے سوشل میڈیا پہ آیاتِ کریمہ کے ٹیگز کیئے۔

    ہم غموں سے ڈرتے ہیں کہ وہ دلوں میں دکھ اور آنکھیں نم چھوڑ جاتے ہیں۔ لیکن اسکے بعد کی کیفیت کی کوئی بات نہیں کرتا، اس سکون کی، اس ہلکے پن کی جو دل کھول کر آنسو بہا دینے کے بعد پیدا ہوتی ہے۔

    Impressive….
    Faqeerah is ism e ba musamma..

    Liked by 1 person

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s