مومی

کچھ نوکری رات کی تھی، کچھ یہاں تھی بھی نئی جس کی وجہ سے میری علیک سلیک ہاسٹل کی باقی لڑکیوں کی نسبت برابر کے کمرے والی مومی سے ہی تھی۔ گھر دور ہونے کیوجہ سے اکژ ویکنڈز ہمارے ساتھ گزرتے۔ کم گو اور گہری لڑکی تھی، اکژ اپنی عمر سے بڑی بات کہ جاتی اور انتہائی توجہ سے دوسرے کی بات سننے کی عادی تھی۔
ایک دن مومی کے کمرے کی ہلچل سے میری آنکھ کھلی، باہر نکلی تو گزرتی وارڈن نے بیزاری بھانپتے ہوئے بتایا کہ مہینوں سے خالی پڑے کمرے میں نئی لڑکی شفٹ ہو رہی ہے۔

Advertisements

2 thoughts on “مومی

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s