شعور

وہ بچہ جو کچھ دیر قبل کوڑے کے ڈھیر کی زینت تھا چند کاغزی کاروائی کے بعد قانونی طور پر انکے چودہ برس سے ویران پڑے آنگن کی بہار بن گیا تھا۔

اپنے وجود کی حقیقت سے آشنائی اسے ماں باپ سے اور بھی قریب لے آئی اور وہ انکی شفقت کے سائے میں شعور کی سیڑھیاں چڑھتا گیا۔

آنگن میں تیز آندھی اسکے باپ کا سایہ لے اڑی۔ وہ اب زیادہ وقت گھر سے باہر رہنے لگا یا گھر پر ماں سے لڑتا۔ ایک دن وہ گھر چھوڑ گیا، سنا تھا کہ ماں اسے اب نا محرم لگتی تھی۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s