وارث

ابا تو اماں کو ہتھیلی کا چھالا بنا کر پھرتا تھا، حویلی کو وارث جو دینے والی تھی وہ۔ اور اماں بھی پہلی بار امید سے ہونے کی وجہ سے خوب ناز نکھرے اٹھواتی۔ وقت نے انگڑائ لی اور میرا اس دنیا میں آنکھ کھولنے کا دن آگیا۔ میری پیدائش کے ساتھ ہی مجھے ایک ملازمہ جسکے منہ بند رکھنے کی قیمت اسکے پلّو میں باندھ دی گئی تھی، ساتھ پچھلے دروازے سے روانہ کر دیا گیا۔ اس دن حویلی میں سفید چادروں سے میرے مرنے کا  سوگ منایا گیا جبکہ گرو جی کے ہاں میری آمد کا جشن۔

(فقیرہ)

Advertisements

5 thoughts on “وارث

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s