ارمان

دل میں ڈھیروں ارماں سجاۓ وہ اس دن کے خواب پچھلے کیٔ سالوں سے دیکھ رہی تھی۔ غربت اور بنا مرد کے سہارے کے اسکی ماں نے اسکے سب ارماں پورے کرنے کی کوشش کی تھی۔ وہ بہت خوش تھی، خوب سجی سنوری، خوب سرخی پاؤڈر لگایا، اس فن میں وہ مہارت رکھتی تھی۔ ڈھلتی شام جوق در جوق مہمان لانا شروع ہو گیٔ۔ کچھ دیر بعد اسے لایا گیا جہاں سب اپنی نشستوں پر براجماں تھے۔ موسیقی نے رنگ بکھیرے اور اسکے گھنگروؤں نے طبلےکی تھاپ سے مل کر خوب جیبیں ہلکی کیں۔ آج اسکا پہلا مجرہ کامیاب رہا۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s