تنہائی

وہ چاند کا روشن چہرہ

یہ میری ذات کا اندھیرہ

وہ آسماں پہ ٹوٹا تارہ

یہ میرے بند ساکت لب

وہ پررونق چہکتے چہرے

یہ میرے دل کی ویرانی

وہ قہقہوں کی بڑھتی گونج

یہ میرا سنسان پڑتا وجود

وہ ہاتھوں میں مظبوط ہاتھ

یہ میرا تنہائی کا ساتھ

وہ رونق، قہقہے اور ساتھ

یہ ویرانی، سنسانی اور تنہائی

وہاں پورے چاند کی رات

یہاں اماوس کا پھیلا راج

بیٹھے ہیں ساکت آج تنہا

اک ہجوم کے ہم بیچ

کوئی چھوڑ گیا سرِ راہ

ہمیں جاننے کے بعد

(فقیرہ)

Advertisements

3 thoughts on “تنہائی

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s