جیسے

جیسے آغوشِ بہار ہو بھری بھری

گل و رنگ و بو سے سجی سجی

ویسے ہم بھی تھے کھلے کھلے

مسکراہٹوں سے سجے سجے

جیسے پروانے کو جنون ہو

شمع کے گرد طواف کا

ویسےتم بھی تھے میرے رو برو

میرے آس پاس۔ ۔ ۔ میرے چار سو

جیسے وقت بھی تھا بہتی ندی

ٹہری سی۔ ۔ ۔ پر چلتی ہوئ

میرا وقت بھی تھا ٹہرا ہوا

چند لمہوں میں بٹا ہوا

پھر اس نے جو بدلی ادا

بہار کی گود اجاڑ دی

اک دن خزاں نے آ کے چپکے سے

میرے گل و رنگ اجاڑ دیئے

ظالم ہوا بھی اک ساتھ تھی

جو میری شمع کو بجھا گئی

وہ طواف بھی ٹھر گیا

اور پروانہ بھی جل گیا

اب نہ تم ہو میرے رو برو

نہ میرے آس پاس نہ چار سو

بیٹھی ہوں میں اجڑی ہوئی

مرجھائی سی۔ ۔ ۔ ادھ مری ہوئی

تم بہار تھے ۔ ۔ ۔ میری آس تھے

میرے پروانے کا طواف تھے

اب نہ کوئی بہار ہے

اور نہ کوئی جلتی شمع

تم کس اور چلے گئے

ہم کس موڑ پہ بچھڑ گئے

کیا ہم نے تھامے تھے ھاتھ نہیں

یا ہم کبھی ساتھ ۔ ۔ ۔ چلے نہ تھے

(فقیرہ)

Advertisements

وہ تو عورت ہے

وہ تو عورت ہے

وہ ایسا نہ کرے

ویسا نہ کرے

وہ دوسرے کی مرضی سے چلے

تو کس کس کی مرضی سے ؟

وہ تو عورت ہے

وہ ایسا نہ پہنے

ویسا نہ پہنے

وہ دوسروں کی مرضی کا اوڑہے

تو کس کس کی مرضی کا؟

وہ تو عورت ہے

وہ یہاں نہ رہے

وہاں نہ رہے

وہ رہے تو دوسروں کے ہاں

تو کس کس کے ہاں ؟

وہ تو عورت ہے

وہ ایسے نہ جیئے

ویسے نہ جیئے

وہ دوسروں کی مرضی کا جیئے

تو کس کس کی مرضی کا؟

(فقیرہ)